Syria-War 69

شام پر رات تحریر : شاہ بانو میر

ایک ہی سِمت میں ٹہری ہوئی خاموش نظر
پوچھتی ہے کہیں باقی بھی ہے کوئی اور کسر

آج کئی اسلامی ممالک سے اٹھتی چیخیں پکارتی صدائیں ملک کے اندر مچے شور میں کہیں گُم ہو جاتی ہیں۔ کل عورت کی فریاد محمد بن قاسم کو بھیج کر راجہ داہر کو نشان عبرت بنا دیتی ہے۔ آج کہاں سے لائیں محمد بن قاسم؟ خالد بن ولید؟ عمر بن خطاب؟ کربلا وہی بپا ہے مگریزیدیت کے خاتمے کیلیۓ حسین آج نہیں ہے؟ آج شام پر ظلم کی انتہاء زخمی بچے مائیں بہنیں گھسٹتے سڑکوں پر لہو لہان وجود ہاتھوں میں معصوموں کے لاشے حجاب والیاں آج بے حجاب ننگے سر خوفزدہ سڑکوں پر دوڑتی مدد کیلیۓ پکارتی مائیں بچوں کے خون آلود اجسام سے لپٹ کرکس طرح دہاڑیں مارتی ممتا دنیا کے منصفوں کو پکار رہی ہیں، باپ آنسوؤں سے تر بے بسی سے آسمان کی طرف نگاہیں کئے عمر بھر کی جمع پونجی ملبے میں اپنے گھر کی دیواروں کو تلاش کر رہا ہے۔ عورت اپنے گھر کی ملکہ ہے جو اس کی پہچان اس کی شان ہے آج غوطہ کی سڑکوں پر اپنے گھروں کی رانیاں مہارانیاں رُل گئیں ۔ ہم سب پوسٹ دیکھتے ہیں شئیر کر کے پھر سیاست کی پوسٹ پبلش کر دیتے ہیں۔ ٌیہی کمزور رویے ہمیں طاقتور نہیں بننے دیتے ۔ آج عوام کو بالخصوص امت کو جاگنا ہوگا ورنہ یاد رکھیں کہ ہماری داستان بھی نہ ہوگی داستانوں میں یہ خاموشی سنگین جرم ہے دینی بھی اور انسانی بھی سوچیں اور جاگیں مسترد کر دیں ہر سیاسی پوسٹ کو آج سے صرف شام اور صرف شام ہمارے پیجز پر ہو ۔ پھر دیکھیں توجہ بھی ہو گی اور شرم بھی آئے گی ان ظالموں کو کہاں ہیں ہم ؟ وہ نبی ﷺ جو فرما گئے کہ ایمان پورا نہیں جب تک اپنے بھائی کیلیۓ انسان وہی پسند نہ کرے جو اپ،نے نفس کیلیے کرتا ہے۔ کیا ہم اپنے لئے ایسی گولہ بارود سے بھری قہر برساتی صبح پسند کرتے ہیں؟ کیا ہم اپنے بچوں کیلیۓ ایسی ہولناک فضا چاہتے ہیں شام کیلئے پاکستان میں کہیں سے کوئی آواز بلند نہیں ہو رہی جس سے سیاست کی بے حسی اور اس کا محدود دائرہ نظر آتا ہے۔ اس ملک کی سیاست وہ مجسمہ بن چکی ہے جس کی ظاہری شکل پے نہ جاؤ اس کے اندر سوائے ذاتی فوائد کے اور کچھ نہیں ملے گا۔اب خود اٹھنا ہوگا اس قرآن اس حدیث کو سمجھ کر جسد واحد بننا ہوگا یہ بکھرے ہوئے تعفن نکالتے ہوئے ہمیں کیسے جوڑیں گےبطور امت ؟ ہمیں توڑنا ہی ان کی سیاسی زندگی ہے خود پر اب امت کو قوم کو خود محنت کرنا ہوگی واپس جانا ہوگا دینی فرقوں کی بانٹ مسترد کر کے صرف 1 اللہ 1 رسول 1 قرآن 1 نبیﷺ برادریوں سے ہٹ کر ذات پات سے الگ ہو کر اکٹھا ہو کر اپنے دوسرے بہن بھائیوں کی مدد کرنی ہوگی ۔ ذاتی منفعت سے متنفر ہو کر وہ مومن بن جاؤ جو قرآن کا مومن ہے جس کیلئے زندگی اس کے لئے نہیں بلکہ اسکی زندگی تو دوسروں کوفلاح دینے کے لئے ہے۔ وہی مومن اٹھے گا تو اس امت کا درد کسی ماں کی طرح دل میں بسا کر اس امت کو یکجا کر کے اتنا طاقتور بنا دے گا۔ کہ آدھی دنیا میں پھیلا اسلام پوری قوت سے دنیا میں چھا جائے گا ۔ دنیا کو یہ مومن سکون کا گھر بنا دے۔ظلم کی انتہاء دیکھیں کہ 5 وقت کی نمازیں قرآن ذکر اذکار کرنی والی امت کو ایک ساتھ کھڑا نہیں کر پا رہے؟ اس سے بڑا ظلم خود امت اپنے اوپر کیا کرے گی؟ اتنی بڑی اسلامی دنیا کی ذلت آمیز خاموشی مایوسی کے کئی در کھول رہی ہے۔ سب کی خاموشی میں ایک ہلکی سی آواز ابھرتی ہے ترکی نے یہ کیا ترکی نے وہ کیا ؟ ترکی ماضی کی تاریخ پر قائم ہے اور 2023 تک معاہدے کی بندش میں قید ہے۔2024 انشاءاللہ اسلام کیلیۓ شاندار کامیابیوں کے ساتھ طلوع ہو گا مگر اس سے پہلے یہ 5 سال کیا دنیا بھر سے مسلمانوں کو یونہی کبھی اپنے کبھی پرائے چن چن کر قتل عام کریں گے؟ جس واحد تھی امت جس کو کہیں سیاست نے کہیں اسلام کے غلط افکار رکھنے والے کچھ اشخاص نے بکھیر کر ریزہ ریزہ کر دیا۔قرآن ہلاک ہوئی بستیوں کا تفصیلی ذکر کرتا ہے آج پھر ہمارے طرز زندگی اس قدر اسلام مخالف ہو گئے کہ اللہ کا قہر ہمیں ڈرا رہا ہے بتا رہا ہے کہ دور ہو کر صرف کمزور ہو جاؤ گے اور بڑی طاقتیں تمہیں ادھیڑ کر رکھ دیں گی۔عراق مصر لیبیا سوڈان کشمیر تیونس سب کی سب وہی بستیاں دکھائی دینے لگیں جو قرآن بیان کرتا ہے۔آئیے توبہ کریں استغفار کریں سچے دل سے گزشتہ ناکام کوششوں پر مبنی بظاہر کامیاب زندگی پرمحسوس کریں اپنے رب کی مہربانیوں کو ہمارے اہل اقتدار اور ان سے بڑھ کر طاقتور سیاسی مخالفین ذرا اپنے دلوں کو چیک کریں؟ پتھر یا اس سے بھی زیادہ بے حس احساس سے خلق خُدا کی چیخوں سے بےنیاز کانوں میں روئی دیے ہوئے ذاتی زندگی میں مطمئین رہنے والے ہمارے حکمران یا رہنما کیسے بن سکتے ہیں؟ یہ تو مومن کی صفت سے ہی محروم ہیں؟2 نفل توبہ کیلیۓ اور اپنے ساتھ ساتھ اس امت کیلئے خیر کی دعا آج بھی امت دعاؤں سے شام کو اس مہیب سیاہ تاریک رات سے باہر نکال سکتی ہے۔ کمی ہمارے عمل اور اخلاص میں ہے آئیے انسانیت کے نام پر امت کے نام پر دعا کریں دعا عرش معلیٰ تک پہنچتی ہے دعا کریں اس شام کیلیۓکہ جہاں ظلم کی سامراجیت کی رات ہی رات ہے اور کہیں سے طلوع آفتاب نکلنے کو نہیں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں