Firing in Sahiwal 77

ساہیوال فائرنگ: سی ٹی ڈی اہلکاروں کو حراست میں لے لیا گیا

ساہیوال فائرنگ پر زخمی بچے کا بیان سامنے آگیا، زخمی بچے کا کہنا ہے کہ جاں بحق افراد میں میرے والدین، بہن اور والد کا دوست شامل ہیں۔ سی ٹی ڈی کارروائی میں زخمی ہونے والے بچے عمیرخلیل کا کہنا ہے کہ ’’ہم اپنے گاؤں بورے والا میں چاچو رضوان کی شادی میں جارہے تھے، فائرنگ میں مرنے والی میری ماں کانام نبیلہ ہے اور والد کا نام خلیل ہے۔ مرنے والی بہن کا نام اریبہ ہے‘‘۔بچے نے مزید بتایا ہے کہ ’’ہمارےساتھ پاپا کےدوست بھی تھے، جنہیں مولوی کہتےتھے۔ فائرنگ سے پہلے پاپا نے کہا کہ پیسے لےلو، لیکن گولی مت مارو۔ انہوں نے پاپا کو ماردیا اور ہمیں اٹھا کر لے گئے، پاپا، ماما، بہن اور پاپا کے دوست مارے گئے‘‘۔

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل

ساہیوال واقعے پر ڈی آئی جی ذوالفقار حمید کی سربراہی میں جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ترجمان پولیس کے مطابق جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی ، ایم آئی اور آئی بی کے افسران بھی شامل ہوں گے ۔ ترجمان کے مطابق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم 3 روز میں واقعے کی رپورٹ پیش کرے گی ۔

وزیر اعظم نے رپورٹ طلب کرلی

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے ترجمان ڈاکٹر شہباز گل نےکہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب نے ساہیوال واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ ساہیوال واقعے پر اپنے ویڈیو پیغام میں ترجمان وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ کار پر فائرنگ میں انسانیت سوز واقعے پر عمران خان اور عثمان بزدار نے فوری طور پر نوٹس لے لیا ہے۔ ان کا کہناتھاکہ وزیراعظم نے شفاف تحقیقات کے ساتھ واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کردی ہے۔

اریبہ کے بارے میں کچھ پتہ نہیں کہاں ہے

دوسری جانب فائرنگ سے مارے گئے خلیل کے بھائی جلیل کا کہنا ہے کہ پولیس نے ہماری فیملی پر فائرنگ کرکے میرے بھائی کو قتل کردیا ہے۔ جلیل نے کہا کہ سی ٹی ڈی کی فائرنگ کے وقت گاڑی میں 4بچے بھی سوارتھے، ان بچوں میں 14سال کی اریبہ بھی تھی، جس کے بارے میں کچھ پتہ نہیں کہ وہ کہاں ہے۔ جلیل نے کہا کہ میرا بھائی خلیل پرچون کی دکان پر کام کرتا تھا اور شادی میں شرکت کے لئے جارہا تھا۔

گاڑی کے اندر سے کوئی مزاحمت نہیں کی گئی

عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کا نشانہ بننے والی گاڑی لاہور کی جانب سے آرہی تھی، جسے ایلیٹ فورس کی گاڑی نے روکا اور فائرنگ کردی جبکہ گاڑی کے اندر سے کوئی مزاحمت نہیں کی گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق مرنے والی خواتین کی عمریں 40 سال اور 13 برس کے لگ بھگ تھیں۔ عینی شاہدین نے مزید بتایا کہ گاڑی میں کپڑوں سے بھرے تین بیگ بھی موجود تھے، جنہیں پولیس اپنے ساتھ لے گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کے واقعے کے بعد پولیس نے کار میں سوار بچوں کو قریبی پیٹرول پمپ پر چھوڑ دیا، جہاں انہوں نے بتایا کہ ان کے والدین کو مار دیا گیا ہے۔

آئی جی پنجاب نے رپورٹ طلب کرلی

انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب امجد جاوید سلیمی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آر پی او ساہیوال سے فوری رپورٹ طلب کرلی ہے۔ ترجمان پنجاب پولیس نبیلہ غضنفر کے مطابق اگر مارےگئے افراد پُر امن شہری تھے تو فائرنگ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ دوسری جانب وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر واقعے میں کسی کی غفلت ثابت ہوئی تو اس کے خلاف ایکشن لیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

20 − 2 =