151

حلف نامہ میں تبدیلی کیوں؟؟؟ سوال اپنی جگہ اب بھی قائم ہے ۔۔۔۔۔تحریر۔ عروسہ جیلانی

اقتدار کے طمع اوربالاستی کی دوڑمیںحکومت نے انتخابی کاغذت میںامیدوار کے حلف نامے کو بدل کرملک،قوم اوردین کے معاملات سے سنگین لاپروائی ثابت کر دی ہے۔ زےادہ افسوسناک امر ےہ ہے کہ حکومت کی اتحادی مذہبی جماعتوںنے بھی ختم نبوتﷺ جےسے مقدس عقیدے سے متعلقہ آئینی ڈرافٹ کی حساسیت کا احترام نہ کیا،شیخ رشیدجب قومی اسمبلی میںکھڑے ہو کر تمام ارکان سے کہہ رہے تھے کہ” ختم نبوت ﷺ“ کے حلف کے متعلق آئین میں تبدیلی کی جا رہی ہے لہذا یسانہ کریںتو حکمران جماعت کی اعلیٰ شخصیات ان کی بات کو سیاسی حربہ قرار دے کر بے بنیاد ٹھہرارہی تھیں۔1973ءکا آئین پاکستان کی تمام سیاسی کی جماتوںکے اتفاق رائے سے منظور کیا گےا۔لبرل اور آزاد خیال سمجھے جانے والے وزیراعظم ذولفقارعلی بھٹونے” عقیدہ ختم نبوتﷺ“ کے قانونی پہلوﺅںکو اپوزیشن اورمذہبی جماعتوں کے ساتھ مل کر آئین میں سموےا۔ طے پا گیا جوشخص رسول کر یمﷺ کو کسی بھی مفہوم میں اللہ کا آخری نبی تسلیم نہیں کرتا وہ مسلمان نہیں۔اس دن کے بعد پاکستان میںمختلف سر کاری دستاویزت میںمسلم وغیرمسلم کی شناخت واضح کرنے کے لیے اےک حلف نا مہ شامل کیا گےا جس میںحلف اٹھا کر مذہبی شاخت واضح کی جا تی ہے۔عوامی نمائندگی کے لیے خود کو پیش کرنے والے افراد پر لازم ہے کہ وہ حلفاًاپنے عقیدے کی وضاحت کر یں۔1973ءسے لے کر 2017ءتک لگ بھگ 44 برس کا عرصہ گزرا ہے اس دوران پاکستان میںکئی حکمران آئے اور گئے لےکن کسی حکومت نے عقیدہ ختم نبوت کے ذیل میںآنے والے معاملات سے چھڑ چھاڑےااسمیںترمیمکیجراتنہیںکی۔حکمران جماعت کا نام مسلم لیگ ہے ۔ےہ جماعت علامہ اقبال اور قائداعظم محمد علی جناح کے افکارکو اپنا فکری اثاثہ قراردےتی ہے۔اس جماعت کی قےادت شرےف خاندان کے پاس ہے کہ وہ اسلامی رواےات،عقائد اور تصورات کی امین ہے مگر گزشتہ کچھ مدت سے اس جماعت اور اس کی قےادت کا طرز فکر اس کے دعوﺅں کے بر عکس دکھائی دے رہا ہے۔ےوں معلوم ہوتا ہے کہ مسلم لےگ اب پاکستان میں رہنے والے لوگوں کے نظرےات کی بجائے بعض اےسی طاقتوں کی آلہ کار بن رہی ہے جو اس کی قےادت کو سےاسی وقانونی مشکلات میں مبتلا کرنے کے لیے متحرک ہیں۔ جب اےسے واقعات سامنے آنے لگتے ہیں تو شکوک و شہبات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ پاکستان کے سکیورٹی اداروں نے بلوچستان سے جب حا ضرسروس نےوی افسر کلبھوشن ےادیو کو گرفتار کیاتو ن لےگی قےادت نے آج تک اس پر بھارت کے کو ئی براہ راست بات نہ کر کے شکوک کو ابھرنے کا موقع دےا۔چند دن ہوئے جب لیگی حکومت نے وزیر خارجہ خوا جہ آصف نے حافظ محمد سعید،جیش محمد اور پاکستان میںعسکریت پسند تنظیموں کی سرگرمیوںکے متعلق اسی پےرائے میںگفتگو فرمائی جس پےرائے میں بھارتی یا افغان قےادت پاکستان سے بات کرتی ہے ۔پاکستان کے عوام اس بات سے شاکی ہیںکہ حکومت کے وزیر داخلہ کو جب احتساب عدالت میںداخلے سے روک دیاجاتاہے تو لفظی گولہ باری شروع ہو جاتی ہے۔حکومت اپنی بے بسی کا رونا ردھونا شروع کر دیتی ہے مگر ملک اور قوم کے عقائدپر حملے اور دشمن کی ہر زہ سرائی کے وقت اس سر عت اور حسا سیت کا مظاہرہ دےکھنے میں نہیںآتا۔حلف نامہ کی تحریر اور الفاظ میں تبدیلی کا معاملہ اس لیے سنگینی رکھتا ہے کی حکومت کی جانب سے انتخابی اصلاحات بل 2017ءکی تر میم کو ذرائع ابلاغ کے سامنے پےش کیا جاتا رہا ہے اس میں حلف کا معاملہ تو کہیں موجود ہی نہیں تھا ۔پھر وےسے بھی ےہ بات کسی ذی شعور کی سمجھ میں نہیں آتی کہ حکومت نے کس مقصد کے تحت حلف نامے کو تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی کی؟ ۔ےہ بات تو طے شدہ ہے کہ کوئی کام بلا مقصد نہیںہوتا ۔ہر عمل کے پیچھے کوئی نہ کوئی غرض ہوتی ہے ۔انتخابی اصلاحات کی کمےٹی ساڑھے تین سال تک اےک سو کے قریب اجلاس کر چکی تھی ۔ حکومت اور اس کے اتحادیوں کی اکثریت کے باعث کمےٹی نے تحرےک انصاف کی معتدداےسی تجاویز کو مسترد کر دیا جن سے انتخابی شفافیت اور اعتبارےت کو بہتر بناےا جا سکتا تھا ۔پھر ےہ تجاویز ڈرافت کی شکل میں ڈھلیں ،قومی اسمبلی ،سینٹ اور پھر قومی اسمبلی میں منظوری کے بعد صدر مملکت سے دستخط کرائے گئے اور عین اگلے دن عدالت سے نااہل قرار دئیے گئے نوازشریف کو مسلم لےگ نے اپنا صدر منتخب کر لیا۔تعجب اس بات کا ہے کہ ےہ تمام لوگ اور پاکستان کے عوام کی تر جمان پارلیمنت نے کےاپورا ترمیمی مسودہ پڑھا؟ اگر پڑھا توالفاظ پر غور کیا؟غور کیا تو کیا نتیجہ اخذ کیا؟تاثر ےہ دیا جا رہا ہے کہ میاں نواز شریف آئینی مسودے کی جزئیات اور تفصیلات سے آگاہ نہیں تھے ۔اگر اےسا ہے تو پھر انہیں عدالتی نا اہلی کے بعد اخلاقی طور پر بھی خود کو نا اہل تصور کر لےنا چاہیے۔ وہ کےسے پارٹی سر براہ ہیں کہ انہیں معلوم ہی نہیںکہ عد لیہ کو نیچا دکھانے لے لیے وہ کس سطح تک جا سکتے ہیں۔حلف نامے کی تبدیلی کی جسارت کے بعد میاں نواز شریف اور ان کے حامیوں کی غیر تسلی بخش وضاحت اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ پارلیمانی جمہورےت اور ملک کی نظرےاتی شناخت کے درمےان ہم آہنگی برقراررکھنے کی اہلیت سے محروم ہیں۔زےادہ تعجب خےز بات جے ےو آئی کے امیر زمان اور جناب ساجد مےر کا نواز شرےف کے حق میں ےہ بےان آنا ہے کہ حلف نامے میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔اب جب خود نواز شریف اس بات کو قبول کر رہے ہیں کہ اےسا ہوا ہے تو ان دو نوں حکومت نواز صاحبان کو اپنی ساکھ اور شناخت پر ازسرنو غور کرنا چاہیے۔محب دےن اور محب وطن حلقوں کے ےہ خدشات بے بنےاد نہیں رہے کہ حکومت اگلے مرحلے میں آئین میں ترمیم کر کے صادق اوامین ہونے کی شرط ختم کر سکتی ہے ۔مسلم لےگ کی دو تہائی اکثرےت کی بنےاد پر تر میم کا اختےار رکھتی ہے لےکن حساس دےنی معاملات پر ترامیم کامینڈےٹ اس کے پاس نہیں۔ےہی وجہ ہے کہ ملک بھر میں حکومت کے اس اقدام پر غم وغصہ کے جذبات سامنے آئے ہیں۔اس معاملے کو غلطی سمجھ کر چھوڑا نہیںجا سکتا تھا ۔اس غلط کام کا انجام ےہی ہونا تھا کہ حکومت کو منہ کی کھانی پڑی ، لہذا وزےرے قانون زاہد حامد نے 5اکتوبر کو قومی اسمبلی میں انتخا بی بل 2017 پےش کیا جس میں ختم نبوت کی شق کو بغےر کسی ترمیم کے بحال کرنے کی تجویز دی گئی جسے اتفاق رائے سے منظور کر لےا گےا ،لےکن ےہ سوال ابھی بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ اس ترمےم کا مقصدکےا تھا ؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں