175

سالا ایک مچھر۔۔۔۔۔۔ تحریر: ممتاز ملک، پیرس

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم جن چیزوں کو بہت معمولی یا بے قیمت سمجھ لیتے ہیں وہی لوگ یا چیزیں زندگی میں ایک چیلنج کی طرح ہمارے سامنے آکر کھڑی ہو جاتی ہیں اور ہمیں انہیں چیزوں اور لوگوں کو نہ چاہتے ہوئے بھی برداشت کرنا پڑتا ہے ۔شاید یہ قانون قدرت ہے ایک بہت بڑی ہستی کا قول ہے کہ میں نے اپنے ارادوں کےٹوٹنے سے خدا کو پہچانا۔ اگر ہر بات ہماری ہی مرضی اور منشا سے ہی پوری ہونے لگے تو پھر کاتب تقدیر کون کہلائیگا۔ گویا یہ بات مان لینا ہی عقل مندی ہے کہ کوءتو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے وہی خدا ہے جو دن کو رات اور رات کو دن بنا رہا ہے وہی خدا ہے روز اول سے ہی دنیا میں خدا تعالی نے ایسے لوگوں کو بھی پیدا کیا جو بے انتہا اختیار اور طاقت سے نوازے گئے انہیں دن دونی اور رات چوگنی کامیابیوں سے نواذا گیا۔جنہوں نے اس اختیار اور عزت کو خدا سے ڈرتے ہوئے استعمال کیا اور حق داروں کو ان کا حق پہنچاتے رہے ،انصاف کی راہ پر چلتے رہے ،بندگی کا حق ادا کرتے رہے وہ تو امر ہو گئے لیکن جن لوگوں نے خود کو خداءفوجدار سمجھ لیا اور لوگوں کی قسمت لکھنے والا کنگ میکر سمجھ لیا ان کا انجام ایک نمرود جیسا کر دیا گیا کہ جس نے طاقت کے غرور میں خود کو لوگوں سے سجدہ کروانا شروع کر دیا اور خود کو لوگوں کی زندگی اور موت کا مالک سمجھنا شروع کر دیاتب خدا کی خداءمسکراءاور فرمایا جا بد بخت ہم تجھے اس قابل بھی نہیں سمجھتے کہ تیری موت کے لئے کسی بیماری یا ہتھیار کو ہی تکلیف دی جائے ،نمرود تکبر سے بولا کہ بھلا مجھے کون مار سکتا ہے حکم خدا ہوا کہ فقط ایک مچھر،،،،،،،،، ایک مچھر ہی کافی ہے تیرے لئے۔پھر تاریخ گواہ ہےکہ کتنے ہی انتظام کر ہارا وہ نمرود مگر….. اپنی بد نصیبی کو بدبختی سے خوش بختی میں نہ بدل سکا ،کیوں ،،،،،،،،،، کیوں کہ توبہ کا در اس کے لئے بند ہو چکا تھا۔ہر احتیاط اور صفاءکے باوجود ،خود کو شیشے کے کمرے میں بند کر لینے کے باوجود وہ ایک مچھر خدا کے حکم سے اس تک آن پہنچا ، کیسے نہ پہنچتا کہ میرے رب کا حکم تھا یہ۔جو ہو کر رہنا تھا۔ اسی ایک مچھر نے اس کے ناک کے رستے اس کے دماغ میں ڈیرا ڈال لیا ، پھر انہیں لوگوں میں سے جن سے وہ خود کو سجدہ کروایا کرتا تھا اس نے خود اپنے سر پر جوتے مارنے کے لئے ملازم رکھے کہ وہ جب تک اس کے سر پر جوتے برسایا کرتے تھے اسے سکون ملا کرتا تھا جیسے ہی ہاتھ روکتے تھے مچھر کے بھنبھنانے پر وہ پھر تڑپنے لگتا تھا استغفارررررررررررررراور اسی طرح جوتے لگانے والوں نے غصے سے اتنے زور کا وار کیا کہ اس کی موت واقع ہو گئی۔پھر نہ اس مردود کی خودساختہ خداءرہی نہ حکومت ……اسی کی حکومت بھی اس دنیا پر قائم ہے اور خداءبھی کہ جو اسکا حقیقی مستحق ہے۔یہ سب جانتے ہوئےبھی خدا ایسے لوگوں کو دنیا میں لاتا بھی رہتا ہے اور انہیں دنیا کے لیئے عبرتناک بھی بناتا رہتا ہے تاکہ کوءیہ نہ کہہ سکے کہ یہ تو پرانے فرضی قصے ہیں۔ آج بھی ایک چھوٹی سی چیونٹی بڑے سے بڑے ہاتھی کی سونڈ میں گھس جائےتو اسے چوہے کی موت مار دیتی ہے۔یہ سب باتیں کہانیاں نہیں ہیں بلکہ روز نظر آنے والی حقیقتیں ہیں ضرورت ہے تو بس اپنی آنکھیہں کھلی رکھنے کی اور اپنے ایمان کی مضبوطی کی تاکہ کوءشیطان ہمیں ورغلا نہ سکے۔اور جو طاقت اور اختیار ہمیں عطا ہوئے ہیں اس کے غرور میں ہمں اسی کے عطا کرنے والے رب کے باندھے ہوئے دائرے سے خارج کروا کر ہمیں کہیں مردودوں کی قطار میں ہی شامل نہ کروا دے گویا یہ مان لینے ہی میں عافیت ہے کہ دولت، مال ،اولاد ،طاقت ، حسن ،جوانی،اختیار کچھ بھی بلا حساب اور ہمیشہ رہنے والا نہیں ہوتا۔ جن کے پاس یہ چیزیں نہیں ہیں ان کا حساب تو بہت آسان ہو گا لیکن جن کے پاس یہ سب ہے ان کا حساب نہ صرف بہت لمبا ہو گا بلکہ بہت سخت بھی ہو گا ہمیں یہ یاد رکھنا ہو گااور اللہ کی ان امانتوں کو امانتیں سمجھ کر ہی استعمال کرنا ہو گا ورنہ شاید ہمیں یہ کہنے کا بھی موقع نہ ملے کہ سالا ایک مچھر آدمی کوکیاااااا کیاااااااا بنا دیتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں