161

قائد اعظم محمد علی جناح کی یادگار عیدالاضحیٰ

بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے ملک آزاد ہونے کے بعد اپنی زندگی کی آخری عیدالاضحیٰ پاکستان وجود میں آنے کے 72 ویں روز، ہفتہ 25اکتوبر 1947 کو کراچی میں منائیعالم اسلام کے ہمراہ پیر 12اگست 2019 کو وطن عزیز پاکستان میں پورے مذہبی احترام کے ساتھ عیدالاضحی منائی جارہی ہے۔ اس موقع پر تمام مسلمان جوش و خروش کے ساتھ سنت ابراہیمی کا اہتمام کرنے جارہے ہیں،اس حوالے سے ہم پاکستانی اللہ تعالی کا جتنا شکر کریں وہ کم ہے۔آزادی کے بعد یہ 73ویں عید العضحیٰ ہے، جو حسن اتفاق سے آزادی کے مہینے میں منائی جارہی ہے۔آزاد پاکستان میں جب عیدالعضحیٰ پہلی مرتبہ منائی گئی گزشتہ صدی کے وسط میں جب 14اگست 1947 کو پاکستان وجود میں آیا تو اس کے 72ویں روز، ہفتہ 25اکتوبر1947 وہ پہلا موقع تھا جب عید قرباں پہلی مرتبہ منائی گئی۔قوم کو یہ موقع پہلی اور آخری مرتبہ ملا جب بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جنا ح آزاد وطن میں تمام پاکستانیوں کے درمیان موجود تھے۔ دوسری طرف تاریخ میں یہ آخری موقع تھا جب پاکستان اور ہندوستان کے 20ہزار حجاج مشترکہ طور پر 20 جہازوں میں حج کی سعادت حاصل کرنے گئے تھے۔پاکستان قائم ہوئے زیادہ وقت نہیں گزرا تھا،ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک کے زخم تازہ تھے، کشمیر سمیت متعدد مقامات سے مسلمانوں پر ظلم و زیادتی اور قبضے کی خبریں مسلسل سامنے آرہی تھیں۔اس موقع پر عید قرباں اور ہندو برادری کا تہوار دسہرہ ایک ہی تاریخ کو آرہا تھا، صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے حکومت وقت چوکس تھی۔ اس موقع پر مذہبی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے لیےاہم اقدامات کئے گئے۔اس وقت کے دارلخلافہ کراچی میں ایک روز قبل امن قائم رکھنے کی اپیل پر مبنی پمفلٹ بذریعہ ہوائی جہاز شہر بھر میں گرائے گئے۔دونوں تہوار کو پرامن اور خو ش اسلوبی سے منانے کے لیے ہندو مسلم کمیٹی تشکیل دی گئی تھیں،جبکہ ملک بھر میں تین روز عام تعطیل تھی اور دو روز اخبارات شائع نہیں کئے گئے، سرکاری طور پر اعلان کیا گیا تھا کہ عید سے تیسرے روز تک کراچی میں موجود تمام مہاجرین کو کھانا مفت ملے گا اس وقت شہر میں ساڑھے چار ہزار مہاجر موجود تھے۔ہفتہ 25اکتوبر1947 کو پہلی عیدقرباں کے موقع پر قائد اعظم بہت پرجوش تھے،وہ نماز عید سے قبل انتظامات دیکھنے کےلیے ساڑھے8 بجے اپنے اسٹاف کے ہمراہ عید گاہ میدان میں تشریف لائے۔ میدان میں ایک نہایت خوبصورت شامیانہ لگایا گیا تھا جبکہ شہر بھر میں پولیس کو چوکس رکھا گیا تھا،عیدگاہ میدان بندر روڈ پر ٹھیک 10 بجے نماز عید کا اہتمام کیا گیا۔عیدالاضحیٰ کے روز قائد اعظم کے ہمراہ وفاقی اور صوبے سندھ سے تعلق رکھنے والے وزراء نماز میں شریک ہوئے، بعد نماز عید قائد اعظم نے عید گاہ میدان میں پاک فوج سے سلامی لی،اس تقریب کے لیے خاص تیاری کی گئی تھی،اس موقع پر وفاقی اور صوبہ سندھ کے وزراء سمیت گورنر سندھ شیخ غلام حسین ہدایت اللہ بھی موجود تھے،سلامی کے موقع پر فوج کے آگے 22 طیارہ شکن توپوں کا دستہ تھا۔جب کوئی فوجی دستہ قائداعظم کے سامنے سے گزرتا تو عید گاہ میدان نعرہ ہائے تحسین سے گونج اٹھتا تھا، فضا میں پاکستان فضائیہ کے طیارے پرواز کررہے تھے جنہوں نے قیام امن کی اپیلیں بھی برسائی،فوج کی سلامی کے بعد گورنر سندھ نے پولیس کی سلامی لی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں