332

مار گئی مہنگائی ۔۔۔۔شاعر۔راشد علی مرکھیانی

بھوت سراپا ب کے آئی ہائے اوئے مہ گائی
کھا گئی میری ساری کمائی ہائے اوئے مہ گائی
آلو بھ ڈی پیاز ٹماٹر سو ے جیسے لاگیں
دال پکی تو عید م ائی ہائے اوئے مہ گائی
حال ہوا ہے ایسا اب تو یاد ہیں ہے مجھ کو
کب تھی میں ے مرغی کھائی ہائے اوئے مہ گائی
وکر چاکر چھوڑ چلے اب کر ی خود کو ہوگی
جھاڑو پوچا اور صفائی ہائے اوئے مہ گائی
مجھ کو لوٹے روز یہ کہہ کر مرا فیملی ڈاکٹر
اب میں دوں گا ٹھیک دوائی ہائے اوئے مہ گائی
صبح صبح جب آ کھ کھلے تب کہتے ہیں یہ بچے
ہم کو لادو ا کھٹائی ہائے اوئے مہ گائی
چلتے چلتے رک جاتا ہے میرا موٹر سائیکل
عشق اسے پیٹرول سے بھائی ہائے اوئے مہ گائی
شاپ گ اسکوکیسے کراﺅں کہاں سے لاﺅں پیسے
بیگم کرتی روز پٹائی ہائے اوئے مہ گائی
روکھی سوکھی کھا کر راشد رب کا شکر م اﺅں
کس کو دوں سرکار دہائی ہائے اوئے مہ گائی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں