131

حکومتی بِل میں لفظ”حلف کی جگہ اقرار“ کلیریکل مسٹیک یا خطرناک چال۔۔۔۔مفتی محمد اکبر اویسی

پاکستان اپنے قیام کے ساتھ ہی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کا شکار رہا۔جن میں میں سیاسی اور مذہبی نوعیت کی سازشیں سر فہرست ہیں۔عوام اور حکومت کو دست بگریباں رکھنے کے لئے مذہبی منافرت اور انتشار سب سے مہلک اورمو¿ثر طریقہ¿ واردات رہا ہے۔اگر یہ انتشار شیعہ سنی کی شکلمیں ہو تو فبھا ورنہ حکومت کی نااہلیوں کے ذریعے اس سازش نے ہمیشہ جانداراثرات مرتب کئے اور بالآخر حکومتوں کی بساط لپٹی اور ملک کئی عشروں تک اس زمینی آفت کے زیرِ اثر رہا۔حالیہ آئینی ترمیم اس سازش کا منہ بولتا ثبوت ہے۔اس کے سازش ہونے کی دلیل یہ ہے کہ کمال عجلت سے اسے پاس کروایا گیا اور الٹا رخ اختیار کیا گیا۔ہمیشہ بل پہلے ایوان زیرین] قومی اسمبلی[ میں پاس ہوتا ہے پھر ایوان ِ بالا]سینٹ[میں زیرِ بحث آتا ہے لیکن اس قدر عجلت سے پاس ہوا کہ ایوان بالا کے زیرک فکر ممبران کی سمجھ سے بھی بالا رہا اور انھوں نے پاس کر دیا۔
حکومت کے حامی اور مخالفین میں لفظی،تحریری اور تقریری سطح پر شدید جنگ جاری ہے ]خصوصاً سوشل میڈیا پر{کہ آیا ایوانِ زیریں اور بالا سے منظور شدہ بل میں حلف کی جگہ اقرار کا لفظ استعمال کرنا یا ہو جاناآیا تحریری غلطی ہے یا شاطرانہ چال؟لوگ بھانت بھانت کی بولیاں بول رہے ہیں۔ حکومت کے حامی اور نون لیگ کے نمک خوار ، اسے پہلے تو غلطی ہی نہیں مان رہے تھے اب جب میڈیا نے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیا تو چارو ناچار اور بادلِ نخواستہ اسے تسلیم تو کرہے ہیں کیونکہ انکار کی صورت نہیں سوجھتی لیکن اس کی تا¿ویل یوں فرماتے ہیں کہ” اس سے عقیدہ¿ ِ ختم نبوت پر کوئی حرف نہیں آتا“۔وزیرِ قانون فرماتے ہیں کہ یہ”وہی والا ہے،یہ وہی والا ہے ۔(بین السطور وہی جو امریکہ کا مطلوبہ ہے)ہیرا پھیری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔“
لعنة اللہ علی الکاذبین۔۔’ اللہ پاک نے جھوٹوں پر ہی لعنت فرمائی ہے۔
عوام الناس اور عقیدہ¿ ختم ِ نبوت سے ناواقف لوگ اسے جس طرح سمجھے یہ ان کی سمجھ کا قصور ہے۔ہم ان کے لئے اللہ سبحانہ¾ تعالیٰ سے عقل و فہم رساکی دعا ہی تو کر سکتے ہیں۔لیکن جو لوگ قانون کی زبان سے شُد، بُد بھی رکھتے ہیں انھیں اس شاطرانہ چال کی پوری سمجھ اور خطرناک کھیل کا ادراک ہو چکاہے۔اس قانونی شِق کو اگر اس کے مقام اور متعلقات سے ہٹاکر کے دیکھیں تو یقیناً اس میں نہ گستاخی ہے اور نہ ہی ختم ِ نبوت کے عقیدے سے انکار و انحراف۔
اصل مسئلہ اس کے مقام و متعلق کا ہے۔یہ ایک حلف نامہ ہے جو قانون کی زبان میں درجہ¿ ِ شہادت رکھتا ہے۔اگریزی لفظ اوتھ{Oath عربی کے حلف کا ہم معنیٰ ہے جب کہ عربی کا لفظ ”اقرار“ انگریزی کے Declaration} {کے ہم معنیٰ استعمال ہوتا ہے۔لفظ ِ حلف سے انحراف یا کذب بیانی قانوناً قابل ِ مواخذہ جرم ہے جب کہ اقرار سے پھر جانامحض وعدہ خلافی یا بعض صورتوں میں فریقِ ثانی (اقرار کرنے والے)کو اس کا حق بھی حاصل ہوتا ہے۔ نیز یہ اخلاقی جرم ہے۔۔۔ قانونی جرم نہیں۔لفظ Declaration باہمی معایدے کے لئے جب کہOath اللہ کے ساتھ عہد کا نام ہے۔
فائدہ(تحریف کا) یہ ہے کہ اقرار نامے پر غیر مسلم دستخط کر کے آئین و قانون سے انحراف یا کذ ب بیانی کا مرتکب نہیں قرار پائے گا جب کہ حلف نامہ قانوناً شہادت کا درجہ رکھتا ہے۔حلف نامے پر دستخط کے لئے عقیدے کا حلف کے مطابق و مترادف ہونا لازمی ہے۔جھوٹا حلف نامہ دستخط کرنے والا مجرم اور عہدے سے ناہل ہوگا۔
اس لفظ کی تبدیلی سے زیرِ زمین قادیانیوں اورعیسائیوں کے لئے پاکستان پر حکمرانی کی گرین ٹرین کے لئے پٹڑی بچھائی جارہی تھی جسے بروقت پہچان لیا گیا۔ اس میں پسِ پردہ ایک گھناو¿نی سازش یہ بھی کی گئی ہے کہ اس میں اسم محمد (ﷺ)کی جگہ” آخری نبی “لکھ دیا گیا ہے۔نبی صفت ہے، جس سے کوئی بھی نبی مراد لیا جاسکتا ہے۔خواہ وہ ظلی و ہو یا بروزی یا کوئی دوسرا خود ساختہ۔یہ ایسا خطرناک شطرنج ہے جس کی چال سے سیدھے سادے لوگ مطلع نہیں ہو سکتے۔اور نہ ہی اردو خواں درباری ملاو¿ں کو اس کی تلخی کی سمجھ ہے۔
قادیانی ،مرزا غلام احمد کو آخری نبی مانتے ہیں اور حضرت محمد مصطفےٰ(ﷺ) کو مسلمان آخری نبی مانتے ہیں۔صرف آخری نبی کا لفظ اسم پاک محمد(ﷺ) کی جگہ ایسا مہلک اور خطرناک ہتھیار ہے جس کے تباہ کن اثرات مسلمانان ِپاکستان کے لئے ہائیڈروجن بم سے بھی زیادہ خطرناک اور مہلک ثابت ہوں گے۔
سب سے اہم بات یہ کہ حکومت ِ وقت کے اسلام کے خلاف خطرناک عزائم اور منصوبہ جات کہ ہولناکی کا جائزہ لینا اب اہل دانش کے لئے کوئی مشکل امر نہیں رہا کہ وہ مستقبل میں اسلام کے ساتھ مغرب و امریکہ کی خوشنودی کے حصول کے لئے کہاں تک جانے کا عزم مصمم فرما چکی ہے۔ اس سے قبل لاو¿ڈ اسپیکر ایکٹ کے نام سے اذان کی آواز کو محدود کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے جس میں محمدرسول اللہ کی صدا حکومت کے (بعض ختم نبوت کے مخالف) حامیوں کے لئے درد سر تھی۔اسی طرح مغربی آقاو¿ں کی رضا ورغبت کے حصول کے لئے ملک ممتاز حسین قادری رحمہ اللہ کا تختہ دار پر چڑھا دینا ایک ایسی حقیقت ہے جس سے چشم پوشی کرنا ممکن نہیں۔
میری استدعا ان تمام اہل ایمان و محبت سے ہے جو اسلام کا ذرا سا بھی درد اپنے سینے میں چھپائے بیٹھے ہیں کہ خدا را انگڑائی لیں اور بیدار ہو جائیں ۔ اسلام و ایمان کے لئے اپنا تن ، من دھن کی قربانی پیش کرنے کے لئے تیار ہو جائیں ورنہ ۔۔۔۔نہ سمجھو گئے تو مٹ جاو¿ گے اے مسلمانو! تمہاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں۔۔۔۔۔ایسے ہی موقع کے لئے اقبالؒ نے فرمایا تھا کہ۔۔۔۔۔۔ ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیمِ جاں ہے زندگی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں