19

کشمیر کی صورتحال اور آئی ایم ایف کا بیان، کیا اتفاق ہے؟

اسلام آباد (انصار عباسی) جس دن نئی دہلی نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اسے اقوام متحدہ کی قرارداد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنا حصہ بنایا اسی دن امریکا نے اسے بھارت کا ’’اندرونی معاملہ‘‘ قرار دیا جبکہ آئی ایم ایف نے پاکستان کو خبردار کیا کہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے باہر نکلنے میں ناکامی کی صورت میں پاکستان کی غیر ملکی مالیاتی ضمانتوں (فارن فنانسنگ اشورنسز) کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اگرچہ آئی ایم ایف یہ کہتا ہے کہ وہ سیاسی اثر رسوخ سے پاک آزاد ادارہ ہے جس کا ایف اے ٹی ایف پر متوازن موقف ہے، لیکن اس کے باوجود کچھ حلقے اس کے بیان کا مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کیے جانے کے موقع پر سامنے آنے پر سوالات اٹھاتے ہیں۔ یہ پاکستان کو کشمیر جیسے حساس معاملے پر دیوار سے لگانے کی واضح صورتحال ہے حالانکہ پاکستان کا موقف جائز ہے۔ پاکستان کیلئے ممکنہ جال بچھائے جانے کا شک اس بات سے بھی مضبوط ہوتا ہے کہ بھارت میڈیا ’’ دی پرنٹ‘‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی وزیر خارجہ ایس جئے شنکر نے اپنے امریکی ہممنصب مائیک پومپیو کو کشمیر کیلئے آرٹیکل 370؍ اور آرٹیکل 35؍ اے ختم کرنے کے مودی حکومت کے ارادے کے حوالے سےبریفنگ دی تھی۔ دی پرنٹ کی تاہم، دی پرنٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ امریکا کو اس ایشو پر بریفنگ دی گئی۔ فروری میں پلوامہ حملے کے دو دن بعد، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول نے امریکی ہم منصب جان بولٹن کو فون کرکے بتایا کہ مودی سرکار جموں و کشمیر کی ’’خصوصی حیثیت‘‘ ختم کرنے جا رہی ہے۔ اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش پر پاکستان پرجوش ہوگیا تھا لیکن کشمیر کے متعلق بھارتی اقدام پر امریکا کا تازہ ترین رد عمل میں بھارت کی حمایت واضح نظر آتی ہے۔ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قرارداد کو نظر انداز کرتے ہوئے، امریکا نے پیر کو بھارت پر زور دیا کہ وہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہونے سے متاثر ہونے والوں سے مذاکرات کا سلسلہ شروع کرے لیکن ساتھ ہی اس بات کی نشاندہی کی کہ بھارت اس اقدام کو اپنا ’’اندرونی معاملہ‘‘ سمجھتا ہے۔ امریکی دفتر خارجہ کی ترجمان مورگن اورٹیگس نے کہا کہ ’’ہم جموں و کشمیر کے حالات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں، ہم نے بھارت کے اس کا اعلان پر بھی غور کیا ہے کہ جس میں اس نے جموں اور کشمیر کی آئینی حیثیت پر نظرثانی کی ہے اور اس ریاست کو دو یونین ٹیریٹریز میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘ واشنگٹن میں جاری ہونے والے اس بیان میں بھارت کے اس ایشو پر موقف کی بات تو کی گئی ہے لیکن پاکستان کے موقف کا ذکر نہیں کیا گیا۔ مورگن اورٹیگس کہتی ہیں کہ ’’ہم نے اس بات کو نوٹ کیا ہے کہ بھارتی حکومت نے سختی کے ساتھ ان اقدامات کو اندرونی معاملہ قرار دیا ہے۔‘‘ اس بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مسئلہ کشمیر حل کرنے کیلئے ثالثی کی حالیہ پیشکش کا حوالہ بھی نہیں دیا گیا۔ 22؍ جولائی کے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ان سے کہا تھا کہ کشمیر کے مسئلے پر ثالثی کریں۔ اگرچہ بھارت نے انکار کیا کہ مودی نے ٹرمپ سے ایسی کوئی بات کہی ہے لیکن مسٹر ٹرمپ نے رواں ہفتے ایک مرتبہ پھر اپنی بات دہراتے ہوئے کہا کہ اگر دونوں ملک چاہیں تو وہ مدد کیلئے تیار ہیں۔ عجیب اتفاق ہے کہ آئی ایم ایف کی صدر ٹیریسا دابان سانچیز نے بھی پیر کو بیان دیا جس میں انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے باہر نکلنے میں ناکام رہا تو اس سے کیپیٹل اِن فلوز پر اثرات مرتب ہوں گے جس سے غیر ملکی مالیاتی ضمانتیں سبوتاژ ہوں گی۔ نیشنل پریس کلب میں سینئر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’’آئی ایم ایف گرے لسٹ یا بلیک لسٹ میں موجود ملکوں سے معاملات کر سکتا ہے لیکن اس سے کیپیٹل ان فلوز پر اثرات مرتب ہوں گے۔ آئی ایم ایف بورڈ آف ڈائریکٹرز چاہتا ہے کہ ادارہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی میں مالی معاونت جیسے معاملات دیکھیں کیونکہ ان سے ٹیکسوں کا نظام متاثر ہوتا ہے۔ آئی ایم ایف بنیادی طور پر میکرو اکنامک معاملات اور مالیاتی استحکام کا ذمہ دار ہے، لہٰذا ایف اے ٹی ایف کے معاملات دیکھنا ہمارے لیے اہم ہے۔ پیر کو انڈین حکومت نے عجلت میں آئین سے آرٹیکل 370؍ اور 35؍ اے خارج کرنے کیلئے صدارتی حکم نامہ جاری کیا، آئین کی یہ شقیں مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت کا حامل بناتی تھیں۔ دریں اثناء، آئی ایم ایف نے واضح کیا ہے کہ اس کے کوئی سیاسی مقاصد ہیں اور نہ وہ کسی ملک کے ساتھ مل کر کوئی مخصوص پلان بناتا ہے اور اس کا کوئی سیاسی ایجنڈا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ وہ خالصتاً پیشہ ورانہ انداز سے اور آزادانہ طور پر اپنی پالیسیاں مرتب کرتا ہے اور ان پر عمل کرتا ہے اور اس سلسلے میں کسی ملک کا کوئی دبائو نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں