22

فواد چوہدری اور مشاہداللہ کےدرمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آج دوسرے روز بھی جاری ہے، گزشتہ روز وزیر اعظم عمران خان نے ہر فورم پر مقبوضہ کشمیر کا مقدمہ لڑنے کا اعلان کیا تھا۔سینیٹر مشاہداللہ پارلیمنٹ کےمشترکا اجلاس سےخطاب کررہے تھے کہ اس دوران اُن کے اور وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کے درمیان جملوں کا تبادلہ ہوا۔ فواد چودھری کے ریمارکس پر ردعمل دیتے ہوئے مشاہد اللہ نے کہا کہ کوئی بات نہیں یہ تمیز سیکھ جائیں گےجبکہ چیئرمین سینٹ نے نازیبا ریمارکس کارروائی سے حذف کردیے۔اجلاس سے خطاب میں سینیٹر مشاہداللہ نے کہا کہ بھارت سے کہا تھا کہ کشمیرآپ کا اٹوٹ انگ نہیں ہے، کیا اٹوٹ کہ ساتھ یہ سلوک ہوتا ہے؟ یاسین ملک، آسیہ اندرابی تہاڑ جیل میں ہیں، علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق نظربند ہیں۔مشاہد اللہ نے کہا کہ کل وزیراعظم صاحب اتنی تاخیر سے آئےکہ اتنی تو پی آئی اے کی فلائٹ میں بھی دیرنہیں ہوتی اور پھر وزیراعظم ہم سے پوچھتے ہیں کہ میں کیا کروں۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کی بات ہوگی تو ہم سب ایک ساتھ ہیں، حکومت نے امریکا میں جو نواز شریف اور آصف زرداری کےخلاف تقریر کی کیا ہم سے پوچھ کرکی تھی، پوری فوج اور آئی ایس آئی کو کہتے ہیں کہ ہم آپ کےساتھ کندھے سے کندھا ملا کرکھڑے ہیں لیکن ہم ایک سیاسی جماعت کےوزیراعظم کےساتھ نہیں۔مشاہد اللہ کا کہنا تھا کہ آپ مودی کومس کالیں مارتے ہیں اور وہ نہیں اُٹھاتا۔ حکومت چاہے توکوٹ لکھپت چلے جائیں کوئی فارمولا مل جائے گا اور اگر وہاں نہیں جاتے تو آصف زرداری صاحب کے پاس چلے جائیں وہاں سے ایک فارمولا مل جائے گا جس سے مودی آپ کی کال ضرور اٹینڈ کرے گا۔اُن کا تنقید کرتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ آپ سی پیک کو رول بیک کرتے ہیں پھرکہتے ہیں کہ چین آپ کے لیے بیان دے گا، ہندوستان میں بھی بہت ساری علحیدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ ہمیں اب اپنی پالیسی میں جوہری تبدیلی کرنی ہوگی۔سینیٹر مشاہداللہ نے کہا کہ یہ باتیں میں اشاروں میں کررہا ہوں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں