96

پیرس میں پاکستانی خواتین کی ادبی تنظم راہ ادب کے زیر اہتمام ایک خوبصورت مشاعرے کا اہتمام کیا گیا

گزشتہ روز یکم مارچ 2020ء بروز اتوار پیرس کے نواحی علاقے سارسل کے ہال میں پاکستانی خواتین کی فرانس ، پیرس میں موجود پہلی ادبی تنظم راہ ادب کے زہر اہتمام ایک خوبصورت مشاعرے کا اہتمام کیا گیا جس میں فرانس کی تقریبا سبھی ادبی تنظیمات بزم اہل سخن ،بزم صدائے وطن اورراہ ادب کے شعراء کرام نے بھرپور حصہ لیا ۔پروگرام کی صدارت معروف پنجابی شاعر جناب عاشق حسین رندھاوی نے کی جبکہ نظامت کے فرائض راہ ادب کی جانب سے متاز ملک اور روحی بانو نے ادا کیئے ۔ پروگرام کا آغاز معروف نوجوان قاری معظم کی پرسوز آواز میں تلاوت کلام پاک اورحمد باری تعالی سے ہوا ۔ ساری محفل نے نہایت عقیدت و احترام کیساتھ انہیں سنا اور داد دی ۔ جبکہ نعت رسول مقبول پیش کرنے کی سعادت معروف شاعر عاکف غن کو حاصل ہوئی ۔ ۔ شعراء کام نے اردو اور پنجابی کے علاوہ پوٹھوہاری زبان میں بھی اپنا کلام پیش کیا اور حاضرین سے بھرپور داد سمیٹی ۔ یوں یہ پروگرام کافی حد تک اردو ک ساتھ پنجابی مشاعرے کی صورت اختیار کر گیااور تقریبا سبھی شعراء کرام نے اردو کیساتھ ساتھ پنجابی کلام میں بھی کمال دکھایا ۔جن شعراء کرام نے اپنے کلام سے نوازہ ان کے نام ہیں ،عاکف غنی ، نبیلہ آرزو، آصف جاوید آسی ، مقبول الہی شاکر ، ممتاز احمد ممتاز ، راجہ زعفران ، سیدحمزہ شاہ ، کبیر احمد، جبکہ راہ ادب کی جانب سے ممتاز ملک ، روحی بانواور شمیم خان صاحبہ نے اپنے خوبصورت کلام سے پذیرائی پائی ۔ معروف ناول نگار ، شاعرہ اور افسانہ نگار محترمہ شاز ملک صاحبہ نے بھی خصوصی شرکت فرمائی اور اپنے پنجابی اور اردو کلام سے بھرپور دادسمیٹی ۔ پروگرام کے اختتام پر راہ ادب کی جانب سے پیغام دیا گیا کہ کہ فرانس اور دنیا بھر میں موجود مخیر پاکستانیوں کا یہ قومی فریضہ ہے کہ اپنی کمائی کا ایک برائے نام حصہ ہی سہی لیکن اپنی زبان اپنے کلچر اوراپنے ادب کے لیئے ضرور وقف کریں ۔ آپ اپنی زبان کے لیئے ریڈیو ، ٹی وی چینلز بنان والے ساتھیوں کی بے غرض مدد کریں تاکہ کل کو ان کا نام ان کی اولادیں ان کےجانے کے بعد بھی فخر سے لے سکیں کہ انہوں نے اپنی زندگی سیاست اور ریسٹورنٹ کے کاروبار میں پیسے سے پیسہ بنانے کے علاوہ بھی کسی نیک مقصد میں خرچ کیا ہے۔ جو ان کہ نسلوں کو اپنے آبائی ملک کیساتھ جوڑے رکھنے میں پل کا کردار ادا کریگا ۔ کل کو اگر اس خالی جگہ کو کسی بھارتی یا یہودی لابی نے اپنے ہاتھوں میں لے لیا تو آپ کے پاس اپنا سر پیٹنے کی بھی مہلت نہیں رہیگی ۔ کیونکہ جو پیسہ لگاتا ہے وہ اپنا ایجنڈا بھی پورا کرواتا ہے ۔ پروگرام کے آخری حصے میں معروف نوجوان شاعر اور آن دیسی ٹی وی کے سی ای او وقار ہاشمی نے اپنی تیار کردہ مختصر دورانیئے کی فلم پیش کرنے کا اعلان بھی کیا ۔ اور دوستوں سے اس سلسلے میں ساتھ دینے کی استدعا بھی کی ۔ جبکہ ممتاز ملک نے آن دیسی ٹی وی کے لیئے پروگرام کے نئے سلسلے کے آغاز کا اعلان بھی کیا جس میں کلام شاعر بزبان شاعر کے عنوان سے ہر بار ایک شاعر کو اس کے حالات زندگی سنانے اور ان کے منتخب کلام سننے کے لیئے دعوت دی جائے گی ۔
یوں یہ تقریب بہت سے اہم پیغامات کیساتھ اختتام پذیر ہوئی ۔ مہمانوں کی تواضح چائے مشروبات اور دیگر لوازمات سے کی گئی۔پروگرام کے انعقاد میں تعاون کیا تھا معروف تنظیم “لے فم دو موند ” اور “بھائی بھائی سویٹس” اور “آن دیسی ٹی وی” نے ۔ جس کے لیئے راہ ادب کی صدر محترمہ ممتاز ملک نے ان سب کا دلی شکریہ ادا کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں