275

ڈاکٹر رحیق احمد عباسی کے ساتھ ایک سیشن نذر حافی

کشمیر اور فلسطین کے مشترکات تو دیکھئے۔ دونوں اسلامی ریاستیں ہیں، دونوں پر اکثریتی آبادی مسلمان ہے، دونوں پر ناجائز قبضہ ہے۔دونوں کے مسائل برطانوی استعمار کے پیدا کردہ ہیں۔دونوں کی مشکلات کی مدت ایک جیسی ہے، دونوں مقبوضہ علاقوں میں مسلسل جبروتشدد جاری ہے، دونوں میں جبروتشدد کے خلاف عوام کی مزاحمت اور مقاومت ابھی تک زندہ ہے۔ دونوں ریاستوں پر قابضین کو عالمی برادری کی طرف سے سخت مذمت، دباو اور مخالفت کا سامنا ہے۔ ان دونوں مذکورہ ریاستوں پر مسلمان حکمرانوں کی کاردگی بھی بالکل ایک جیسی ہے۔

یہ سوال تو بنتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ جہانِ اسلام کے حکمران ان دونوں اہم مسائل پر صرف زبانی جمع خرچ کرنے میں مصروف ہیں۔ اسی سوال کے جواب میں محترم ڈاکٹر رحیق احمد عباسی صاحب نے اپنی گفتگو شروع کی۔ وہ سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم اور صدائے کشمیر فورم کے بیسویں آن لائن سیشن میں ہمارے مہمان تھے۔

انہوں نے ایک مثال دے کر بات آگے بڑھائی۔ انہوں نے کہا کہ مظلوم جس خطے اور منطقے کا بھی ہو وہ مظلوم ہوتا ہے۔ بعنوانِ مثال ہمارے ہاں سانحہ ماڈل ٹاون کے ایک بھی ذمہ دار کو کیفرکردار تک نہیں پہنچایا گیا۔جو ریاستیں خود اپنے عوام کو انصاف فراہم نہیں کرتیں وہ کشمیر و فلسطین کے عوام کو انصاف دلانے کیلئے کیا آواز بلند کریں گی۔ انہوں نے اس موقع پر یہ واضح کیا کہ ہمارے اسلامی ممالک کے حکمران عوامی حمایت کے بجائے بڑی طاقتوں کی آشیرباد کی وجہ سے برسرِ اقتدار آتے ہیں، لہذا وہ اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کیلئے عوامی خدمت کے بجائے بڑی طاقتوں کی خدمت کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بڑی طاقتیں ہندوستان اور اسرائیل کی بھی سرپرستی کرتی ہیں اور ہمارے حکمرانوں کی بھی۔ یہ اپنے آقاوں کی چھتری تلے آپس میں متحد ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ اشرافیہ کوبھی صرف اپنے مفادات سے غرض ہے لہذا ہمیں صرف اور صرف مڈل کلاس کے لوگوں پر توجہ دینی چاہیے، انہیں متحرک، بیدار اور باشعورکرنا چاہیے۔عوامی بیداری اور شعور سے تشکیل شدہ رائے عامہ کو کسی بھی سطح پر یکسر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

یہاں پر پہنچ کر انہوں نے عوامی رائے عامہ کی تشکیل میں مختلف رکاوٹوں کا بھی ذکر کیا۔ ان رکاوٹوں میں مختلف علاقائی و مذہبی تعصبات پر بھی انہوں نے روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ کوئی چاہے شیعہ ہو یا سُنی ہمیں اپنے اپنے مذہبی سرکلز کی بھی اصلاح کرنی چاہیے۔ غلط لوگوں اور غلط باتوں کو ہر صورت میں غلط کہنا چاہیے۔ہمیں مسلکی طرفداری کے بجائے حق بات کرنی چاہیے۔ اس موقع پر ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے فکری انسجام اور وحدت میں تکفیریت کا بھی اہم کردار ہے۔ ہماری اجتماعی رائے عامہ کی تشکیل میں ایک بڑی رکاوٹ تکفیریت بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ تکفیریوں کو بھی وہی طاقتیں پالتی پوستی ہیں جو ہمارے حکمرانوں اور ہندوستان و اسرائیل کی سرپرستی کر رہی ہیں۔ یہاں پر انہوں نے ایک انتہائی اہم نکتے کی طرف توجہ دلائی۔ انہوں نے کہا کہ تکفیریوں کو مواد اور ایندھن فراہم کرنے والے اہل تشیع اور اہل سنت دونوں میں موجود ہیں۔ ایسے افراد کی ہمیں اصلاح کرنی ہوگی اور یا پھر ناقابلِ اصلاح ہونے کی صورت میں انہیں ہمیں اپنی اپنی صفوں سے نکالنا ہوگا۔

ڈاکٹر رحیق احمد عباسی صاحب کا یہ چشم کشا تجزیہ آپ نے پڑھ لیا ہے۔ اب آئیے اسی تجزیے کی روشنی میں آج کل کے ایک اہم مسئلے کا جائزہ ہم خود لے لیتے ہیں۔ وہ اہم مسئلہ یکساں نصابِ تعلیم کا ہے۔ اس نصاب تعلیم کی پشت پر ہمارے حکمران اور پنجاب اسمبلی کے خفیہ بل نیزتکفیری و تکفیری نواز اراکین کھڑے ہیں۔ یہ سب اپنے استعماری آقاوں کی اطاعت کیلئے سر توڑ یہی کوشش کر رہے ہیں کہ نصاب تعلیم سے مشترکات کو حذف کیاجائے اور سُنّی و شیعہ اکثریتی مسلمانوں کے بچوں کو ایک اقلیتی فرقے کے عقائد پڑھائے جائیں۔ سُنی و شیعہ مسلمانوں کے نزدیک بنو امیہ کے جو لوگ باطل پر تھے اُنہیں ہیرو بناکر کتابوں میں متعارف کرایا جائے۔ حتی کہ مسلمانوں کے درودشریف کو بھی انہوں نے تبدیل کر دیا ہے۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو نصابِ تعلیم کو دینی بنانے کے نام پر کی جا رہی ہیں اور ظاہر ہے کہ اس کے رد عمل میں لوگ دین سے متنفر ہی ہوں گے۔ کوئی بھی مسلمان یہ نہیں چاہتا کہ سکول والے دینیات کے نام پر اس کے بچوں کے عقائد ہی تبدیل کر دیں۔ اس کا کم از کم عوامی ردعمل یہ نکلے گا کہ سمجھدار لوگ سکول میں دینیات پڑھانے کی ہی مخالفت کر دیں گے۔ یاد رہے کہ استعمار کی سرپرستی، حکمرانوں اور تکفیریوں کی ملی بھگت کا نتیجہ ماضی میں بھی اسلام اور مسلمانوں کی بدنامی نکلا تھا اور آگے بھی یہی کچھ ہونے جا رہا ہے۔

ہمارے نصابِ تعلیم میں ملی مشترکات کو مرکزیت حاصل ہونی چاہیے۔ ہمیں سکولوں میں ایسی نسل پروان چڑھانی چاہیے جو اسلامی مشترکات اور کشمیر و فلسطین سمیت ہر مسئلے پر متحد اور متفق نظر آئے ۔ مشترکات کو مضبوط کرنا ملک و قوم کی اوّلین ضرورت ہے لیکن استعمار کو ہمارے سکولوں میں مشترکات کے بجائے تکفیری نظریات کی ضرورت ہے۔ چنانچہ ماضی میں جہادِ افغانستان کی طرح اس مرتبہ تعلیم کے میدان میں استعمار کی بھرپور خدمت کی جا رہی ہے۔ ہمارے استعماری آقاوں نے جن لوگوں کے ہاتھوں میں جہاد افغانستان کے نام پر تلوار دی تھی ابھی یکساں نصاب تعلیم کے نام پر انہی کے ہاتھوں میں قلم دے دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں