229

فن تحریر(Art of Writing).تحریرنگار،عابد عمر جنرل نالج بلوچستان

تمام حمد و ثنا تعریف و توصیف اس ذات وحدہُ لا شریک کے لئے جس نے انسان کو طاقت گویائی عطا کیا اور ولقد کرمنا بنی آدم کے مقدس لقب سے نوع انسانی کو سرفراز فرمایا بعدہ کروڑ ہا کروڑ درود وسلام اس ذات بابرکات پر جو مورث کائنات ہیں اور آپ کی تمام ال اطہار و تمام اصحاب اور تمام متبعین و محبین پرحمدو صلاۃ کے بعد عزیز دوستو انسان اپنے ما فی الضمیر کی ادائیگی کے لیے الفاظ کا سہارا لیتا ہے پھر ان الفاظ کو اگر انسان زبان سے صحیح طورپر ادا کرسکے تو وہ مقرر ہے اور اگر وہ ان الفاظ کو صفحہ قرطاس پر رقم کر دے تو اسے محرر سمجھا جائے گاعزیز دوستوں میں جب جنرل نالج کے مقابلےکےلئے تیاری کر رہا تھا تبھی سے میرے دل میں یہ خیال اکثروبیشتر پیدا ہوتا رہتا تھا کہ مضمون نگاری کیسے کی جائے صحافت کیسے سیکھی جاۓ کسی معاملے میں سب سے بڑھ کر کے اچھا نمبر اور امتیازی کیفیت کیسے پیدا کی جائےسب سے بڑا سوال اپنے پاس الفاظ کا ذخیرہ کیسے جمع کیا جائے ہماری تحریر کا قاری ہمارے بیان کا سامع ہم پر رشک کرے اور ہماری تحریر و تقریر ایک امتیازی شان رکھے اتنا کمال کیسے پیدا کیا جائے وغیرہ وغیرہ اور میں پورے وثوق سے یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ اس طرح کے خیالات اور سوالات ہر اس طالب علم کے دل و دماغ میں گردش کرتے ہیں جو کامل طو ر پر ایک عالم بر حق کا کر دار ادا کر نا چاہتا ہے

تحریر کیا ہے
یہ امر محتاج تعارف نہیں کہ جب بھی قلم کاغذ کے سینے پر چلتی ہے تو اس سے کچھ حروف الفاظ وجود میں آتے ہیں پھر وہ آپس میں مل کر کے کچھ جملے بنتے ہیں پھر یہ جملے مل کر کچھ پیراگراف بنتے ہیں پھر یہ سب مل کر ایک خوبصورت تحریر کی شکل اختیار کرلیتے ہیں خلاصۂ کلام یہ کہ یہ سارا معاملہ الفاظ ہی کا ہے اور اس کا استعمال اس قدر عام ہے کہ چاہے کوئی بھی شخص ہو پڑھا لکھا ہو یا نہ ہو وہ الفاظ کا سہارا ضرور لیتا ہے اج کے اس ترقی یافتہ اور پر فتن دور میں الفاظ کا کھیل جتنا عام ہو گیا ہے شاید اس سے پہلے کبھی ایسا وقت نہ آیا ہو دنیا بھر میں لاکھوں رسائل وجرائد مختلف زبانوں میں شائع ہو رہے ہیں الیکٹرانک میڈیا شعراء نقباء خطباء سب اس کھیل میں شامل ہیں حد تو یہ کہ لوگوں نے سیاست کی بنیاد بھی اسی کو بنا لیا ہے اس میں کوئی قوم زیادہ پیچھے ہے تو وہ ہم طلبہ کی جماعت ہے 100//92 اور اس کی وجہ ہمارا اس سے متنفر ہو نا ہے یہ اتنا سخت نہیں ہے جتنا ہم سمجھتے ہیںاور اس میں سب سے اہم اردو زبان ہے اس لۓ کہ اگر ہمیں ہندوستان میں تبلیغ دین کا کام کرنا ہے تو ہمیں اردو سیکھنا اور لکھنا ہو گا اس کی تا ئید ہمارے اکابرین کے افعال سے بھی ہوتی ہے اس کے لۓ ہم آپ کے سامنے تین مثال پیش کر تے ہیںحضرت علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی علیہ الرحمہ سا بق شیخ الحدیث دارالعلوم فیض الرسول براؤں شریف اپ فن ادب میں مہارت رکھتے ہوئے اردو میں کتاب تحریر فرماتے ہیںعلامہ صدر الشریعہ کی کتاب بہار شریعت اردو میں ہے جو فقہ حنفی میں سب سے معتبر سمجھی جاتی ہے حالانکہ فقہ حنفی میں سیکڑوں کتابیں عربی زبان میں موجود ہیںحضور فقیہ ملت علیہ الرحمۃ کی کتاب انوار شریعت اردو میں ہے وغیرہ وغیرہعلامہ کشمیری کے حوالے سے بیان کیا جاتا ہے کہ ایک طالب علم عربی میں مقالہ لکھ کر حضرت کے پاس اصلاح کے لئے گیا تو حضرت نے یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ اگر ہندوستان میں تبلیغ دین کا فریضہ انجام دینا ہے تو اردو لکھنا اور پڑھنا سیکھواس طرح کی ایک نہیں سیکڑوں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں مثالیں موجود ہیں

تحریر کیا ہے

محترم و معظم دوستو بجائے اس کے کہ آپ کسی سے سوال کریں کہ تحریر کیا ہے آپ خود غور کریں منطقی انداز میں سونچیں تو آپ کے سامنے یہ حقیقت کھل کر سامنے اجائیگی کہ حروف و الفاظ و جملوں اور چند پیراگراف کے مجموعہ سے تحریر کی شکل حاصل ہو تی ہے اس کا تجزیہ اپ اس طرح کریں کہ کسی بھی ادبی کتاب یا کسی ادیب کا مضمون سا منے رکھ کر یہ پانچ چیزیں نکال لیں تو اپ کے سامنے سواۓ حروف ربط کے اور کچھ نہیں بچیگا

نۓ الفاظ و عمدہ تراکیب
مترادف و متضاد
محاورات و ضرب الامثال
تشبیہات و استعارات
تلمیحات و ذو معنی الفاظ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں