106

بلیک ستمبر اور لاعلم پاکستان

بلیک ستمبر سے شاید اکثر پاکستانی آشنا نہ ہوں۔ یہ اردن کے شاہ حسین کی طرف سے فلسطینیوں کے قتلِ عام کا نام ہے ، یہ قتلِ عام ستمبر 1970 میں شروع ہوا اور جولائی 1971 میں فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کی کمر توڑنے کے ساتھ ختم ہوا۔اسی قتل وغارت کو بلیک ستمبر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ جان کر شاید آپ چونک جائیں گے کہ اس قتل و غارت کا گہرا تعلق پاکستان سے بھی ہے۔
قصہ کچھ یوں ہے کہ جون 1967 کی چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ نے عربوں کی کمر توڑ دی تھی۔ اس جنگ کے بعد فلسطینی مغربی کنارے کے بہت سے لوگ اردن بھاگ گئے تھے۔ اس ہجرت سے پہلے بھی تقریبا 650،000 فلسطینی اردن کے اس منطقے میں آباد تھے۔ چنانچہ دنیا اس سے پہلے بھی اس علاقے کو مشرقی فلسطین کے نام سے جانتی تھی۔ اسرائیلی حکومت کی جانب سے 1948 میں مغربی کنارے پر قبضے کے بعد اس علاقے کا نام مشرقی فلسطین کے بجائے اردن کر دیا گیا۔ نام تو تبدیل کر دیا گیا لیکن مغربی کنارے کے دو لاکھ سے زائد نئے پناہ گزینوں کے شامل ہونے سے اردن میں فلسطینی ایک بڑا اور مضبوط گروہ بن گئے ۔۱۹۵۹ میں یاسر عرفات اور خلیل الوزیر (ابو جہاد) نے فلسطین محب وطن لبریشن موومنٹ کے نام سے فتح نامی ایک تنظیم بھی بنائی تھی جس کا مقصد فلسطین کو گوریلا جدوجہد کے ذریعے اسرائیلی کنٹرول سے آزاد کرانا تھا۔ اس کے علاوہ بھی بہت سی فلسطینی مزاحمتی تحریکیں موجود تھیں۔ یہ تنظیمیں اور تحریکیں دریائے اردن کے دوسری طرف سے اسرائیلی افواج کے خلاف گوریلا کارروائیاں کرتی رہتی تھیں۔ یہ مہاجر فلسطینی اردن میں اسی طرح آباد تھے جس طرح ہمارے ہاں آزاد کشمیر والے کشمیری ، پاکستان کے زیرِ انتظام علاقے میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ مہاجر فلسطینیوں کی قیادت الفتح اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے پلیٹ فارم سے یاسر عرفات کر رہے تھے۔ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن نے اردن میں فلسطینی مہاجرین کے علاقوں کو مقبوضہ فلسطین کے علاقوں کی آزادی کے لئے ایک بیس کیمپ کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا تھا۔یہ صورتحال اردن کی بادشاہت کو خوفزدہ کر رہی تھی۔ خصوصا یاسر عرفات کی بڑھتی ہوئی مقبولیت ایک غیرمعمولی خطرہ بن چکی تھی۔ چنانچہ ۲۵ ستمبر کو شاہ حسین نے اردن میں مارشل لاء لگا دیا۔ دو دن تک فلسطین لبریشن آرگنائزیشن اور اردن کی فوج کے مابین داخلی جنگ جاری رہی۔دو دن کے بعد شاہ حسین اور یاسرعرفات کے درمیان جنگ بندی ہوئی۔ ساتھ ہی جولائی 1971 تک اردن کے بادشاہ نے الفتح اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے تمام ارکان کو اردن بدن کرتے ہوئے انہیں زبردستی شام کے علاقے کی طرف جلاوطن کر دیا۔ جولائی 1971 میں الفتح اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن اور اس کی بیشتر نیم فوجی فورسز کی قیادت لبنان منتقل ہوگئی۔
یہاں پر قابلِ ذکر یہ ہے کہ محمد ضیاء الحق ‘جنگی تربیتی مشن’ کے کمانڈر کی حیثیت سے 1967 سے 1970 تک اردن میں اردنی فوجیوں کی تربیت کر رہے تھے۔وہاں اردن کے بادشاہ کے اقتدار کو مضبوط کرنے اور ان کے مخالفین کو کچلنے کیلئے ضیاالحق نے اپنے فرائضِ منصبی سے بڑھ چڑھ کر اپنا کردار ادا کیا۔وہ بلیک ستمبر کی کارروائیوں میں شریک ہوئے۔ چنانچہ یہ کہاجاتا ہے کہ ایک سال میں ضیاالحق نے جتنے فلسطینی مارے ہیں اتنے آج تک اسرائیل نے نہیں مارے۔ ایک تخمینے کے مطابق اس ایک سال میں تقریبا بیس ہزار فلسطینیوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ 1973 تک ضیاالحق نے پاک فوج کے پہلے بکتر بند یونٹ کے کمانڈر کی حیثیت سے اردن میں خدمات انجام دیں۔فلسطینیوں کے خلاف ضیاالحق کی مثالی کارکردگی کے اعتراف میں مرحوم شاہ حسین نے بریگیڈیئر ضیاء الحق کواردن کے اعلیٰ اعزاز ’’ کو کب استقلال‘‘ سے نوازا ۔1975 میں وہ پاکستان کے لیفٹیننٹ جنرل بنے۔ ذرائع کے مطابق اردن کے بادشاہ نے اپنے تجربے کی روشنی میں ذوالفقار علی بھٹو کو یہ مشورہ دیا کہ وہ ضیاالحق کو آرمی چیف بنائیں۔ مسٹر بھٹو نے سمجھا کہ ضیاالحق اردن کے بادشاہ کی طرح ان کی بھی مکمل تابعداری کریں گے اور ان کے مخالفین کو کچل کر رکھ دیں گے۔ چنانچہ انہوں نے ۱۹۷۶ میں آٹھ سینئر جرنیلوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ضیاالحق کو چیف آف آرمی اسٹاف بنا لیا۔ تجزیہ نگار اظہر سہیل کے مطابق جنرل ضیاء الحق ،جنہیں بھٹو نے ٨ جرنیلوں کو نظراندازکرکے چیف آف آرمی سٹاف بنایاتھا،انھیں دن میں دومرتبہ مشورے کے لئے بلاتے تھے اور وہ ہردفعہ پورے ادب کے ساتھ سینے پر ہاتھ رکھ کر نیم خمیدہ کمر کے ساتھ یقین دلاتے:
سر! مسلّح افواج پوری طرح آپ کا ساتھ دیں گی۔میرے ہوتے ہوئے آپ کو بالکل فکرمند نہیں ہوناچاہیے۔[۱]
ضیاالحق کی دین ِ اسلا م اورشریعت کے نام پر ڈرامہ بازیوں کودیکھتے ہوئے ایک مرتبہ پشاور میں قاضی حسین احمد کوبھی یہ کہناپڑاکہ شریعت آرڈیننس قانونِ شریعت نہیں بلکہ انسدادِ شریعت ہے۔ [۲]
اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرتے ہی ضیاالحق نے زوالفقار علی بھٹو سے جان چھڑوانے کے لئے عدالتی کاروائی کو استعمال کیا، اس مقصد کیلئے بھٹو کے انتہائی مخالف ججز کولاہور ہائی کورٹ اورسپریم کورٹ میں تعینات کیا گیا،اس بات کا اعتراف جیوٹی وی پر افتخاراحمد کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے جسٹس نسیم حسن شاہ نے بھی کیا تھا۔ یادرہے کہ جسٹس نسیم حسن شاہ کاتعلق ان چار ججوں سے ہے جنہوں نے لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے بھٹو کو دی جانے والی سزائے موت کو باقی رکھاتھا،انٹرویو میں جسٹس صاحب کا کہناتھاکہ بھٹوکے قتل کا فیصلہ حکومتی دبائوکی بناء پر کیاگیاتھا۔پنجاب کے سابق گورنر مصطفیٰ کھر نے بھٹو کے قتل کے بعد٢١مئی ١٩٧٩ء میں ڈیلی ایکسپریس لندن کو ایک بیان دیا تھاجس کے مطابق بھٹو کو پھانسی سے قبل ہی تشدد کر کے ہلاک کردیاگیاتھا اور پھر اس ہلاکت کو چھپانے کے لئے عدالتی کاروائی سجائی گئی اور بھٹو کی لاش کو سولی پر لٹکایاگیا۔ان کے مطابق بھٹو پر تشددیہ اقبالی بیان لینے کی خاطر کیاگیاتھاکہ میں نے اپنے ایک سیاسی حریف کو قتل کرایاہے۔
اگرآپ ضیاء الحق کی شخصیت کو سمجھنے کی کوشش کریں تو آپ دیکھیں گے کہ موصوف میکاویلی کے حقیقی معنوں میں پیروکار تھے، یاان سے بھی کچھ آگے ۔جس کی ایک واضح مثال یہ بھی ہے کہ انھوں نے جب جونیجو حکومت برطرف کی تو کہاکہ وہ کوئی اہم کام کرنے سے پہلے استخارہ کرتے ہیں،اس لئے اسمبلی توڑنے کا جو قدم انھوں نے اٹھایاہے اس کے بارے میں بھی تین دن تک استخارہ کیاہے۔
بہر حال آج کل جب آزاد کشمیر کا نام تبدیل کرنے کی بات کی جاتی ہے، مقبول بٹ جیسی شخصیات کو غدار کہا جاتا ہے، سید احمد گیلانی مرحوم جیسے قائدین کی ایک نہیں سُنی جاتی، آزاد کشمیر کو بیس کیمپ کے بجائےپاکستان کا صوبہ بنانے کی مہم چلائی جاتی ہے، کشمیر کو پاکستان کا اٹوٹ انگ اور شہہ رگ کہنے کے بجائے متنازعہ علاقہ کہا جاتا ہے تو ایسے میں مجھے بلیک ستمبر یاد آنے لگتا ہے۔قارئین محترم! تاریخ عبرت کیلئے ہوتی ہے چاہے ضیاالحق کی ہی کیوں نہ ہو، خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو تاریخ سے عبرت حاصل کرتے ہیں، کاش ہم بھی ان خوش قسمت لوگوں میں شامل ہو سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں