71

کوٹلہ ارب علی خاں:راہنما مسلم لیگ ن ممبر قومی اسمبلی این اے 71چودھری عابد رضا کوٹلہ کوٹلہ میں فائرنگ کے واقعہ پر افسوس کا اظہارکیا

کوٹلہ ارب علی خاں:راہنما مسلم لیگ ن ممبر قومی اسمبلی این اے 71چودھری عابد رضا کوٹلہ نے کوٹلہ میں فائرنگ کے واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ آج کاواقعہ ظلم و بربریت اور ہماری جانب سے امن کے لیے جدوجہد کے خلاف غنڈہ گردی کی بدترین مثال ہے ،سالوں قبل اسی ظالمانہ نظام کے خلاف بغاوت کا علم بلند کیا ، اس نظام کے خاتمہ کے لیے مثبت تعمیری سیاست کو فروغ دیا ، عملی میدان میں آکر حلقہ کی محرومیوں کے ازالہ اور سب سے بڑھ کر امن کے لیے انتھک جدوجہد کی ، روایتی سیاست سے ہٹ کر خدمت اور تابعداری کو اپنے منشور کا حصہ بنایا اور پھر اللہ کے فضل سے ترقی کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوا،اور پے درپے امن کی بدولت علاقہ کی خوشحالی کا دور دورہ ہوا،علاقہ جو بدامنی کا شکار تھا اس نے ہمارے امن کے منتخب کیے گئے نظام کو نہ صرف تسلیم کیا ، بلکہ ظالمانہ نظام کے حواریوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رد بھی کر دیا ،یہی بات مخالفین کو خذف نہیں ہوپائی گزشتہ کئی سالوں سے مختلف حربے استعمال کر کے علاقہ کے امن کو خراب کرنے اور ہماری ساکھ کو نقصان پہنچانے کی مذموم کوششیں کی گئیں مگر ہم نے ہمیشہ امن کی بحالی کو مد نظر رکھتے ہوئے خاموش رہ کرجن کی حقیقت میں کوئی حیثیت نہیں انہیں نظر انداز کیا ،ماضی کی طرح آج کے واقعہ کی باز گشت بھی کئی دنوں سے سنائی دے رہی تھی مگر یہاں بھی ہم نے روایتی تسلسل برقرار رکھتے ہوئے صبر کا دامن نہ چھوڑا اور ہم اس انتظار میں رہے کہ شائد ظالمانہ نظام کے داعی مذاکرات کی طرف آنا چارہے ہیں لہذا ان کی حکمت عملی کے انتظار میں رہے اور میں سوچ بھی نہیں سکتا تھاکہ ان کی حکمت عملی ان کی ظالمانہ سوچ سے کئی گنا ظالم ہوگی آج ظالموں نے وہی تاریخ دوہرائی جو ان کا طراامتیاز تھا ، کئی سالوں سے امن میں بستے خوشحال شہرکو تڑ تڑاہت کرتی گولیوں کی گونج سے خون میں نہلا دیاگیا ، نہتے لوگوں کا قتل اور بے گناہ مرد خواتین کو چھلنی اور اپاہج کر دیاگیا اور یہ ایک پرامن شہر میں کس قانون کے تحت کیاگیا ، کوٹلہ کا افسوس ناک واقعہ تبدیلی سرکار کے لیے بہت بڑاسوالیہ نشان ہے، اور مخالفین نے جو دہشت گردی کی اس کا ان کے پاس کیا جواز ہے ، آپ کے سوال کے مطابق اگر جائیدادکے حصول کے لیے یہ سب کچھ کیا گیا توکیا یہ جائیداد اس پرامن شہر نے انہیں عطاکرنی تھی ، جہاں غنڈی گردی اور بدکماشی کی گئی ، کئی سالوں سے ہماری ملکیتی دوکانوں کے کرایہ دارصرف کرایہ دار ہیں ،اگر ان کا حصہ ہے تو ہم سے بات کرتے ، قانونی طریقہ اختیار کرتے یہ ہم سے مذکرات کے لیے برادری طور مصالحت کے لیے ثالث منتخب کرتے جو ان کا شرعی بٹوارا بنتا انہیں فراہم نہ کرتے تو اداروں میں جاتے واویلا کرتے ،مگرآج کے دور میں ایسی دہشت گردی میری تو سوچ اور سمجھ سے بھی بالا تر ہے ، یہاں مسئلہ صرف دوچاردوکانوں کا ہو تو کوئی مسئلہ نہیں دراصل یہ لوگ جائیداد کے نام پر ماضی کی اسی گھسی پٹی سیاست کا غلبہ اور ظالمانہ نظام کا محاسبہ چاہتے ہیں ، یہ علاقہ یہ شہر جس کی ہم نے اپنے خون سے آب یاری کرکے اسے امن وامان کا مضبوط قلعہ بنایا یہ ماضی کی طرح ایک اور ناکام گنونی سازش کرکے علاقہ کے امن اور ہماری ساکھ کو خراب کرنے کے درپے ہیں ،جو انشاءاللہ کسی صورت کامیاب نہیں ہوگی ، ہم دشمن تو دشمن اپنے کسی نام نہاد بھائی کو بھی کسی صور ت علاقہ کا امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اور نہ ہی حلقہ کی عوام اسے تسلیم کرےگی ، انہوں نے افسوس ناک واقعہ میں جان بحق افراد سے ہمدردی واقعہ میں شدید زخمی ہونے والوں کے لیے بھی نیک تمناﺅں کا اظہار کیا ۔کوٹلہ ارب علی خاں (غفوراحمد گل+عابد مرزا)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں