30

شورکوٹ میں کلہاڑیوں کے وار سے شہری قتل

پنجاب’ پاکستان کا ایک منفرد صوبہ ہے ۔ اسے بڑے دماغوں کی دھرتی بھی کہا جاتاہے۔اس کی ایک یونیورسٹی [پنجاب یونیورسٹی] سے چار وزیراعظم [معین قریشی، میر ظفر اللہ خان جمالی، یوسف رضا گیلانی ، نواز شریف] دو نوبل انعام یافتہ سائنسدان [ڈاکٹر عبدالسلام ، ہرگوبند کھرانہ ]اور ان گنت سیاستدان ، ادیب، شاعر ، صحافی ، ہنرمند اورنامور لوگ نکلے ہیں۔اس منفردصوبے کا دِل اس کا ضلع جھنگ ہے۔ جھنگ پنجاب کے وسط میں واقع ہے۔اس کی چار تحصیلیں جھنگ ، شورکوٹ ، احمد پور سیال اور آٹھا رہ ہزاری ہیں۔ ۱۲۸۸ء میں جھنگ کا پہلا شہر آباد ہوا۔ یہ شہر ایک ولی خدا حضرت شاہ جلال بخاری کے حکم سے بسایا گیا، پھریہ شہر اولیائے کرم کی محبت کے ساتھ ساتھ پھلتا پھولتا گیا۔
یہاں ہیررانجھا جیسی صوفیانہ اور عارفانہ لوک کہانی پروان چڑھی، یہیں مرزاں صاحباں جیسا صوفیانہ قصہ تخلیق ہوا، اسی کی مٹی میں پیر تاج الدین اٹھا رہ ہزاری جیسے ولی آسودہ خاطرہیں۔ آج اس کی آبادی پچاس لاکھ سے تجاوز کر رہی ہے۔البتہ یہاں اگر پانچ دریا پانی کے بہتے ہیں تو چھٹا دریا جہالت کا بھی رواں دواں ہے۔بڑے بڑے دماغوں کی زرخیز سر زمین پر پِستہ قامت اور موزی حشرات الارض بھی پائے جاتے ہیں۔اگر یہ فنکاروں، ہنرمندوں، صوفیائےکرام، سائنسدانوں، شعرا اورادبا کی سر زمین ہے تو انسان کُش درندوں کے بِل بھی اسی سرزمین میں موجود ہیں۔ اگر یہاں صوفیائے کرام نے انسانیت کو بچانے کے لئے پریم کے دیپ جلائے ہیں تو یہیں پر انسان کُش درندوں نے خون کے دریا بھی بہائے ہیں۔آپ دِل تھام کر یہ کالم پڑھئےاور جان لیجئے کہ اگر پنجاب کا دل جھنگ ہے تو جھنگ کا دل شورکوٹ ہے۔ شورکوٹ حضرت سلطان باہو کی جنم بھومی اور مقامِ وصال بھی ہے۔ حضرت سلطان باہو کے والد حضرت ابو زید محمد اور والدہ حضرت بی بی راستی صاحبہ کے مزارات کی وجہ سے اسے مائی باپ کاشہر بھی کہا جاتا ہے۔ اس شہر کے وسط میں سید محبوب عالم شاہ گیلانیؒ کا عظیم الشان مقبرہ ہے۔

یہاں متعدد اولیائے کرام کے مزارات ہیں۔ میلے، جشن اور عرس یہاں کی زندگی کا معمول ہیں۔ دوروز پہلے یہاں کی ثقافت کے مطابق ایک عرس تھا۔ اس عرس میں لیاقت بھولی نامی ایک شخص نے کلہاڑی کے پے در پے وار کر کے ایک دوسرے آدمی کو تکہ بوٹی کر دیا۔یہ واقعہ دن دیہاڑے ، ایک میلے کے دوران سرِ عام رونما ہوا۔قابلِ ذکر ہے کہ پنجاب کی سرزمین پر ایسے وحشتناک قتل معمول ہیں۔یاد رہے کہ گلے کاٹنے، مسافربسوں پر شبخون مارنے، جلوسوں اور گھروں پر پتھر پھینکنے، لاشوں کا مُثلہ کرنے، اور مذہبی منافرت کی آڑمیں ٹارگٹ کلنگ یا خنجر اور کُلہاڑی سے مارنے کے واقعات جہاں بھی ہوتے ہیں، ان کے پیچھے بڑے بڑےدماغ بیٹھےہوتے ہیں۔
اب ہم اربابِ اقتدار سے کیا اپیل کریں!
ہم نے پولیس سے کیا شکوہ کرناہے!
ہم فوج کو کیا بتائیں کہ قاتل کون ہے!
ہم خفیہ ایجنسیوں کو کیا نشاندہی کریں کہ ایسے واقعات کے پیچھے خفیہ ہاتھ کون سا ہے!؟

ہم تو عوام النّاس سے بات کیا کرتے ہیں، عوام سے آج بھی بس اتنی سی عرض ہے کہ جس مُلک میں اُس مُلک کے بانی کو کافر کہنے والے ہر مقتدر ادارے کےاندرموجود ہوں،

جس ملک میں اس ملک کے بانی کےمزارکے شہر میں ریلیاں نکال کر اُس کےعقیدے کی توہین کی جاتی ہو، اور جس مُلک میں اُس مُلک کے بانی کی ریزیڈنسی کو اُڑادینے والے شریکِ اقتدار ہوں، اُس ملک میں ہندووں کے مندر، عیسائیوں کے چرچ، اولیائے کرام کے مزارات، بچوں کے سکول، کاروباری مراکز اور عرس و میلے کبھی بھی محفوظ نہیں رہ سکتے۔عوام النّاس سے ہماری مودبانہ درخواست ہے کہ عقل سےپیدل ہوکر ننگے پاوں سفر نہ کیا کریں۔ جس مکان میں موذی حشرات الارض گھسے ہوئے ہوں اُس کے مکین ننگے پاوں نہیں چلا کرتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں