114

دوسرا پہلو تحریر: ممتازملک.پیرس

جس طرح ہر سکے کے دو رخ ہوتے ہیں اسی طرح ہر انسان کی شخصیت کے بھی دو پہلو ہوا کرتے ہیں ۔ ایک وہ جو ہم سب کو دکھائی دیتا ہے اور ایک وہ جو پشت پر موجود ہے اور ہماری آنکھوں سے اوجھل ہے لیکن اس انسان سے منسلک لوگوں پر اس کا ظاہری اور باطنی دونوں ہی پہلو اثر انداز ہو رہے ہوتے ہیں ۔ سامنے والا ظاہری پہلو کی برائیوں سے تو خود کو بچانے کی کوشش کر سکتا ہے لیکن باطنی اور پوشیدہ وار سے خود کو بچانا بیحد مشکل اور کبھی کبھی تو ناممکن ہو جاتا ہے ۔ خاص طور پر اس وقت جب وہ آپ کے سب سے قریبی رشتے کا فرد ہو ۔جیسا کہ شادی کا رشتہ ۔ جسے ایکدوسرے کا لباس کہا گیا ۔ اور ظاہر ہے کسی بدن کی خوبی و نقائص اس کے لباس سے زیادہ کس پر عیاں ہو سکتی ہیں ۔ یہ وہ رشتہ ہے جو ایک مرد اس وعدے پر کسی عورت کیساتھ باندھتا ہے کہ وہ اس کی عزت کی حفاظت کریگا ، اس کی ضروریات کو پورا کرنے کی تگ و دو کریگا اور اس کی خواہشات کی تکمیل میں حتی الوسع اسکا ساتھ دیگا ۔ اور اس سے وفادار رہیگا ۔ جبکہ وہ عورت اس سے اس کی عزت کی حفاظت ، گھر بار سنبھالنے، اسے آرام پہنچانے اور اس کی اولاد کی پیدائش و پرورش کا ذمہ اٹھاتی ہے۔ اس سے وفاداری کا عہد باندھتی ہے۔اکثر مردوزن اپنے وعدوں کی پاسداری کو پوری ایمانداری سے نبھانے کی کوشش بھی کرتے ہیں ۔ جو نہیں کر سکتے اس کی مختلف وجوہات اور تاویلیں پیش کی جاتی ہیں ۔اس وقت ہم ایک ہی پہلو پر بات کریں گے جو شاید اکثر ہی نظرانداز ہو جاتا ہے ۔ وہ ہے مردوں کا شادی شدہ ہونے کے بعد بھی اپنے بہن بھائیوں کو ناجائز حد تک اپنے ہر رشتے پر مسلط کر دینا ۔ یہ مرد فطرتا بزدل اور بیوفا ہوتے ہیں ۔ یہ پیدائشی طور پر اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے غلام ہوتے ہیں ۔ ان میں سوچنے اور خود سے فیصلہ کرنے کی صلاحیت برائے نام یا پھر ناپید ہوتی ہے ۔ ان کی نشانی یہ ہوتی ہے کہ یہ اپنے بیوی اور پھر بچوں کی پل پل کی خبریں اپنے والدین اور بہن بھائیوں کو پہنچا کر اپنے شوہر اور باپ ہونے کی حیثیت کی تذلیل کرتے ہیں ۔ وہ صرف اچھے بیٹے اور اچھے بھائی بننے کا میڈل لینے کے چکر میں اپنی ہی بیوی کے جاسوس شوہر اور اپنے ہی بچوں کے مخبر باپ بن جاتے ہیں ۔ یہ کبھی پکڑے جائیں تو جھوٹی قسمیں اٹھانے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ یہ کبھی اپنے چوری نہیں مانتے ۔ ان کے پاس اپنے گھر کا کرایہ دینے کی رقم یا بجلی کا بل بھرنے کی آخری تاریخ پر کسی بہن بھائی کا فرمائشی پروگرام آ جائے تو یہ اپنا میٹر کٹوا لیگا ، اپنے گھر کے کرائے کی ادائیگی پر جرمانہ چڑھا لیگا لیکن اس کی فرمائش ضرور پوری کریگا ۔ اسے اول خویش بعد درویش میں اپنے بیوی بچے کبھی بھی “اول خویش” نہیں لگیں گے بلکہ وہ ہمیشہ “بعد درویش” کے مقام پر ہی رہیں گے ۔ ایسے لوگ ساری عمر اپنے بیوی بچوں کی نظروں میں مجرم کی سی زندگی گزارتے ہیں ۔ اور ایک وقت آتا ہے جب وہ تنہا رہ جاتے ہیں ۔ جو کہ اصل میں ایسے غلاموں کے ان عزیزوں کی خواہش ہوا کرتی ہے جن کے لیئے یہ ساری عمر اپنے زندگی میں تلخیاں گھولتے رہے ۔ اور جب انہیں اس خطرے کا احساس دلایا جائے تو یہ بڑے ڈھیٹ پنے کیساتھ ہر نقصان اٹھآنے کو تیار ہو جاتے ہیں لیکن اپنی اصلاح کرنے یا خود کو اس نقصان سے بچانے کی کوشش ہر گز نہیں کرتے ۔ ان باتوں کو خاتون پر بھی لاگو کر کے دیکھا جا سکتا ہے ۔ اصل میں ایسے ہی مردوزن اپنے بہن بھائیوں کی محبت میں اپنی زندگی کا توازن کھو بیٹھتے ہیں ۔ اور ان کی حیثیت گھر میں ایک گدھے جیسی ہوتی ہے ۔ جس پر صرف اور صرف وزن ہی لادنا ہے ، ڈنڈے ہی برسانے ہیں ۔ ان زندگی میں سکون ، اعتماد اور خوشی کا تناسب بہت ہی کم ہوتا ہے ۔ اگر آپ میں ان سب میں سے کچھ جھلکیاں خود میں نظر آئی ہیں یا کسی دوست میں دکھائی دیتی ہیں تو اس کی مشاورت کیجیئے ۔ یا اسے کسی اچھے ماہر نفسیات سے رابطہ کرنے ک مشورہ ضرور دیجیئے۔ ہو سکتا ہے آپ کی چھوٹی سی کوشش کسی انسان کو اس کے گھر میں بیوی (شوہر) بچوں کی طرف ایمانداری سے اپنی ذمہ داریاں نبھانے پر راغب کر سکے اور اسے اول خویش اور بعد درویش کا حقیقی معنی سمجھا سکے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں