31

آپ بھی سی ایس ایس کرسکتے ہیں

سی ایس ایس ضرور کیجئے اور میرے ملک کو ایک اچھا انتظامی افسر دیجئے۔

میں نہ تو کیئریر کونسلر ہوں نہ کوئی دانشور لیکن مطالعہ اور مشاہدہ کی بنا پر اچھے برے کی تمیز اور بہترین مشورہ دینے کی جرات لازمی رکھتا ہوں ۔مجھے سکول کے زمانہ سے ہی جنرل نالج کا شوق تھا اور ہمیشہ ایک اچھا جنرل نالج بننے کا خواب دیکھا کرتا تھا ۔قدرت نے ہر امتحان میں کامیاب کیا اور شاید اسی میں قدرت کی بھی چاہ تھی۔بعض فیصلے اللہ نے میری مرضی کے خلاف کیئے یقیناً ان میں بھی میرے لیئے بہتری ہے۔چونکہ میں بعذاتِ خود جنرل نالج کا ایک طالب علم ہوں لہذا ان تمام دوستوں کو جو آبھی زمانہ طالب علمی میں ہیں ان کیلئے ایک اچھا اور بہترین مشورہ دے سکتا ہوں۔اگر آپ بی۔اے یا بی ایس سی کر رہے ہیں یا کر چکے ہیں اور پڑھائی میں اچھے ہیں تو سی ایس ایس کا امتخان ضرور دیجے۔یہ بھی باقی امتحانات کی طرح ایک نارمل امتحان ہے بس ضرورت صرف محنت اور لگن کی ہے۔ناکامی کے ڈر کو اگر ہم چھوڑ دیں تو کامیابی ہمیں قدموں میں ملے گی۔اگر آپ میٹرک ،ایف۔اے ،ایف ایس سی یا بے۔اے بی ایس سی میں نارمل طالب علم رہے اور جنرل نالج کچھ اچھا نہیں اور آپ دنیا میں کچھ بڑا کرنا چاہتے ہیں تو برائے مہربانی سی ایس ایس کی طرف نہ آئیں کچھ اور کریں کیوں کہ آپ کو سی ایس ایس پاس کرنے کے لیے کم از کم ہر روز سترہ ،اٹھارہ گھنٹے پڑھنا ہو گا اور اگر آپ میں اتنا پڑھنے کی صلاحیت موجود ہے توتب ہی آپ سی ایس ایس کرنے کا سوچ سکتے ہیں۔آپ معاشرے کے ہر طبقے سے اپنی وابستگی رکھیں۔فلمیں ،ڈرامے، کھیل کے پروگرام،ٹاک شوز دیکھنا آپکے لیئے نقصان دہ نہیں۔کچھ لوگ پروفیشنل ڈگری سے سی ایس ایس کرنے آتے ہیں مثلاً ڈاکٹر اور انجینئر وغیرہ ان کے سی ایس ایس میں کامیابی کے چانس ستر سے اسی فیصد ہوتے ہیں۔کیونکہ انکا دماغ تیز اور چیزوں کو جلدی محفوظ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یہ لوگ محنت کے عادی ہوتے ہیں اور انکا بہترین مشغلہ مطالعہ کرنا ہوتا ہے اسی وجہ سے انکے کامیابی کے چانس زیادہ ہوتے ہیں مگر ان میں ایک بہت کم تعداد سی ایس ایس کی طرف آتی ہے کیونکہ ان کو ڈگری کے بعد کیریر بنانے کی فکر لاحق ہو جاتی ہے اور جو معمولی سی تعداد اس طرف آتا ہے وہ خاموشی سے کامیاب ہو جاتی ہے جبکہ بی اے اور بی کام جیسی عام ڈگریوں کے حامل لوگ زیادہ سی ایس ایس کرنے آتے ہیں انہیں پڑھائی سے کچھ زیادہ لگاؤ نہیں ہوتا اور آسانی کی تلاش میں رہتے ہیں اور جب انکو سخت قسم کی پڑھائی (سی ایس ایس)کا سامنا کرنا پڑھتا ہے تو یہ لوگ فیل ہو جاتے ہیں چونکہ انکی تعداد کافی زیادہ ہوتی ہے اور ہمارے معاشرے میں انہیں دیکھتے ہوئے مشہور ہو چکا ہے کہ سی ایس ایس میں دنیا فیل بہت ہوتی ہے۔جو لوگ سی ایس ایس پاس کرتے ہیں وہ بھی تو ہم میں سے ہی ہوتے ہیں بس ان میں محنت اور لگن کا جذبہ ہم سے تھوڑا زیادہ ہوتاہے ، اگر ہم اپنے اندر وہ جذبہ لے آئیں تو یقیناً سی ایس ایس میں کامیابی مشکل نہیں ۔اگر آپ نے بی اے یا بی ایس سی اچھے نمبروں سے پاس کیا ہے تو آپ سی ایس ایس کا امتحان ضرور دیں اگر پہلی بار آپ کامیاب نہ بھی ہوئے تو آپ میں کامیابی حاصل کرنے کا ایک حوصلہ پیدا ہو جائے گا جو آپکو منزل کے قریب تر کر دے گا ۔

مضامین کا غلط چناؤں

بہت سے لوگ سی ایس ایس میں غلط مضامین کا انتخاب کر کے ناکام ہو جاتے ہیں۔ اگر آپ فیسبک پر اردو لکھ سکتے ہیں یا ویب سائٹس سے شعر کاپی کر سکتے ہیں تو یہ بالکل نہ سمجھیں کہ اردو آپکے لیئے بہترین مضمون ہے۔آپ نے جس بھی مضمون کا انتخاب کرنا ہے اسکے حوالے سے آپکے پاس ذہن میں اچھا خاصہ نالج ہونا چاہیے۔ پھر اس مضمون کی ریفرنس بکس (جو کہ آپ کی اکیڈمی جہاں سے آپ سی ایس ایس کی تیاری کر رہے ہیں وہ آپ کو بتا دیں ) پڑھنا شروع کریں۔آپ کسی میں مضمون میں بھلے کتنا ہی نالج کیوں نہ رکھتے ہوں ،یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ آپکو اسکے متعلق ہر روز کم از کم آٹھ گھنٹے لازمی پڑھنا ہے۔شاید آپ آٹھ گھنٹے پڑھنے کے بعد اس ملک کیلئے ایک اچھے آفیسر ثابت ہو جائیں جو اس ملک کی ترقی کیلئے بڑھ چڑھ کر حصہ لے اور کرپشن کے خلاف ایک نظریے کے طور پر جانا جائے۔

سب دوستوں سے ایک درخواست ہے آگر میرا مشورہ آپکو پسند آیا ہواہے تو اپنا رائے کمنٹ میں پیش کریں!

تحریرنگار عابد عمر جنرل نالج بلوچستان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں