82

مقبوضہ جموں و کشمیر اور پاکستان کا نظریاتی رشتہ نذر حافی

گزشتہ شب سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم کا بارہواں آن لائن سیشن ہوا۔ قاری قرآن محترم مصطفی اکبری نے قم المقدس ایران سےتلاوتِ قرآن مجید کے ساتھ سیشن کا آغاز کیا۔ انہوں نے انتہائی خوبصورت لحن میں جہاد اور مقاومت کی مناسبت سے کتابِ خدا کی آیات پڑھ کر سنائیں۔ یہاں پر یہ بتانا ضروری ہے کہ اس فورم کے زیرِ اہتمام گزشتہ گیارہ سیشنز میں تنازعہ جموں و کشمیر کے متعدد خدشات اور امکانات پر بحث ہو چکی ہے۔ خصوصاً یہ جاننے کی کوشش کی گئی ہے کہ اس مسئلے کا نظریاتی سرچشمہ کہاں ہے؟ اس منطقے کا جغرافیائی حدود اربعہ کتنا ہے؟ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری جدو جہد آزادی کو کیا خدشات لاحق ہیں اور اس مسئلے کے حل کیلئے کتنے فیصد امکانات موجود ہیں؟ یہ کتنی جغرافیائی اکائیوں میں تقسیم ہو چکا ہے؟ پاکستان اور ہندوستان کیلئے کشمیر اہم کیوں ہے؟ کشمیر پاکستان کی ضرورت ہے یا کشمیر کی تکمیل پاکستان کے ساتھ ہوتی ہے؟ اس تنازعے کے بارے میں پاکستان اور ہندوستان کا کیا موقف ہے؟ خود کشمیری اس مسئلے کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں؟ عالمی برادری اس مسئلے میں کس قدر دلچسپی رکھتی ہے؟اقوامِ متحدہ کی قرارددیں کس حد تک مفید ہیں؟ اس وقت مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی پامالی کا کیا عالم ہے؟ اس مسئلے کے حل کیلئے اب تک کیاکچھ سفارتی و سیاسی اور عسکری اقدامات سامنے آئےہیں؟

بارہویں سیشن میں یہ مباحث ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔ اب یہ جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ کشمیرکی جدوجہدآزادی کو اب تک کس چیز نے زندہ رکھا ہوا ہے؟ کشمیریوں کی زندگی میں نظریے کی کیا اہمیت ہے؟ اس وقت کشمیر میں نظریاتی انتشار کس سطح کو چھو رہا ہے؟ اس نئے مرحلے میں قائداعظم محمد علی جناح، علامہ محمد اقبال، چوہدری غلام عباس، شیخ عبداللہ،مقبول بٹ شہید، آنجہانی گاندھی اور مسٹر نہرو کے کشمیر کے حوالے سے نظریات کو سمجھنے کی کوشش کی جائے گی۔

اس نئے مرحلے کا پہلا تجزیہ محترم ڈاکٹر ساجد خاکوانی صاحب نے جمعرات کی شب پاکستانی وقت کے مطابق ساڑھے آٹھ بجے شروع کیا۔انہوں نےاپنی گفتگو کو مندرجہ زیل تین حصوں میں تقسیم کیا۔ پہلے حصے میں انہوں نے قائداعظم محمد علی جناح کے ایمان کی پختگی، کردارکی بلندی اور نظریات کی بالیدگی کا جائزہ لیا۔ دوسرے حصے میں انہوں نے پاکستان کے نظریاتی جغرافیے پرروشنی ڈالی، اور تیسرے حصے میں جموں و کشمیر کے نظریاتی پسِ منظر کو بیان کیا۔

انہوں نے قائداعظم کی زندگی پر متعدد شواہد لاکر پہلے یہ ثابت کیا کہ وہ سیکولر کے بجائے ایک دیندار شخصیت کے مالک تھے۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح کو سیکولر کہنا اغیار کا ایجنڈہ ہے۔ ان کے تجزیے کے مطابق قائداعظم کی زندگی دینی و مذہبی تعلیمات کی عکاس ہے۔ انہوں نے اپنی ساری زندگی میں کبھی دین کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ اس پر انہوں قائداعظم کی شادی اور ان کی بیٹی کے ساتھ اختلافات کو بھی بطورِ ثبوت بیان کیا۔

اس مقدمے کے بعد انہوں نے پاکستان کی ریاستِ مدینہ کے ساتھ بہت زیادہ شباہتیں بیان کیں۔ ان شباہتوں کے تناظر میں ان کا کہنا تھا کہ قائداعظم محمد علی جناح ایک اسلامی و نظریاتی قائد تھے اور پاکستان ایک اسلامی و نظریاتی سلطنت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قیامِ پاکستان کسی اتفاق یا حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ کارخانہ قدرت کی حکمتِ عملی اور کرشمہ سازی ہے۔

قائداعظم اور پاکستان کے نظریات پر بات کرنے کے بعد انہوں جموں و کشمیر کے نظریاتی دھارے کا تجزیہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں جاری جنگ نظریہ پاکستان، نظریہ قائداعظم یعنی دینِ اسلام کے خلاف جنگ ہے۔ ان کے تجزیے کے مطابق یہود و نصاری اپنے آپ کو بظاہرسیکولر اور لبرل کہہ کر در پردہ اسلام کےخلاف نبردازما ہیں۔ انہوں نے کشمیر کو بھی یہود و ہنود اور نصاری کی طرف سے کھڑا کیا گیا مسئلہ قرار دیا۔ انہوں نے بطورِ ثبوت کہا کہ وائسرائے ہند لارڈ ماونٹ بیٹن ۲۶ جون ۱۹۴۷ کو خود کشمیر گیا۔ وہاں اس نے مہاراجہ ہری سنگھ کے ساتھ طولانی نشستوں میں کشمیر کو غلام رکھنے کے حوالے سے منصوبہ بندی کی، اس منصوبہ بندی کے ذریعے انہوں نے ہندوستان اور پاکستان کو لڑوا لڑوا کر کمزور کرنے کا ہدف بھی مد نظر رکھا۔ انہوں نے کہا کہ پٹھانکوٹ اور گورداس پور کے علاقے ہندوستان کو صرف کشمیر تک رسائی دینے کیلئے دئیے گئے۔ اس موقع پر انہوں نے یہود و نصاری اور ہنود کے گٹھ جوڑ کی کئی مثالیں بھی پیش کیں۔

ان کی گفتگو کے مطابق جموں و کشمیر سمیت سارے جہانِ اسلام کے اس وقت تین اہم مسئلے ہیں۔ ایک یہ کہ مسلمانوں میں اتحاد کا فقدان ہے۔ ہمارے حکمرانوں کی وحدتِ اسلامی کی طرف توجہ نہیں۔ ہمارے ہاں اتحاد کی کہانیاں تو بہت سنائی جاتی ہیں لیکن حکومتی سطح پر اسے اہمیت نہیں دی جاتی۔ دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ آج مسلمانوں کے پاس قائداعظم کی طرح کی کوئی قدآور اور جامع سیاسی قیادت نہیں ہے۔ تیسری اور اہم وجہ انہوں نے یہ بیان کی کہ مسلمانوں کے درمیان مشترکہ دفاع کی کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جہانِ اسلام کو ترجیحی بنیادوں پر ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ جاری ہے۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں