جہانِ اسلام کو خبر ہو یا نہ ہو۔عالمی برادری کو بھی یاد ہو یا کہ نہ ہو۔ پانچ جنوری کی تاریخ شاید سب کو بھول سی گئی ہے۔ ۱۹۴۹ کو اسی دن اقوامِ متحدہ نے ایک انتہائی اہم قرارداد منظور کی تھی۔ اس قرارداد میں کشمیریوں کا حقِ خود ارادیت تسلیم کیا گیا تھا۔تاریخی اسناد کے مطابق ۱۹۴۷ میں ہی کشمیریوں نے علمِ آزادی بلند کر دیا تھا۔۲۷ اکتوبر ۱۹۴۷ کو جب بھارت نے زبردستی کشمیر پر قبضہ کیا تو اُسے شدید مقاومت اور ردِّ عمل کا سامنا کرنا پڑا۔ جلد ہی اُسے احساس ہو گیا کہ زمینی حقائق اُس کے حق میں نہیں ہیں۔ چنانچہ بھارت نے یہ مسئلہ سلامتی کونسل میں لے جانے کی ٹھانی۔ یکم جنوری ۱۹۴۸ کو بھارت کی طرف سے پہلی مرتبہ یہ مسئلہ سلامتی کونسل میں اٹھایا گیا۔تین ماہ اور ۲۰ دن کے بعد سلامتی کونسل نے اس مسئلے کیلئے ایک کمیشن بنایا۔ ۲۱ اپریل کو کمیشن بنا اور ۱۳اگست کو اس کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں سلامتی کونسل نے ایک ابتدائی قرارداد منظور کی۔ ابتدائی قرارداد کے نواقص کو دیکھتے ہوئے قائداعظم محمد علی جناح نے اقوام متحدہ میں تعینات پاکستانی وفد کو قرارداد میں ضروری اصلاحات کی طرف متوجہ کیا۔ چنانچہ ۵ جنوری ۱۹۴۹ کو در اصل وہی قرارداد اصلاحات اور تکمیل کے بعد دوبارہ منظور کی گئی۔اس قرارداد میں کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرتے ہوئے اُنہیں یہ حق دیا گیا اور پاکستان و ہندوستان دونوں کو اس کا پابند کیا گیا کہ وہ اس مسئلے کے حل کیلئے کشمیر میں استصوابِ رائے کرائیں۔
یہ قراداد انتہائی اہم ہے۔ اسی کی وجہ سے مسئلہ کشمیر آج تک اقوامِ متحدہ کے ایجنڈے میں شامل ہے۔ مذکورہ بالا پسِ منظر کی روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کے ایجنڈے میں خود بھارت نے شامل کروایا ہے۔ اس کے بعد اقوامِ متحدہ میں کشمیریوں کی وکالت پاکستان نے کرنی تھے۔ ہم نہ صرف یہ کہ اقوامِ متحدہ میں کشمیر کی وکالت نہیں کر سکے بلکہ عالمِ اسلام کو بھی مسئلہ کشمیر پر اپنا ہمنوا نہیں بنا سکے۔
ایک طرف تو پاکستان جہانِ اسلام کی واحد ایٹمی طاقت ہے۔ ساری خلیجی ریاستیں اپنے دفاع کیلئے پاکستان کی طرف دیکھتی ہیں۔ سعودی ملٹری الائنس میں شامل ۳۵ مسلم ممالک کی بین الاقوامی فورس کی قیادت کا سہرا بھی بظاہر ایک پاکستانی ریٹائرڈ جنرل کے سر پر سجتا ہے لیکن دوسری طرف انہی ریاستوں کی طرف سے کبھی بھی کشمیر میں استصوابِ رائے کیلئے کسی قسم کا دباو بھارت پر نہیں ڈالا گیا۔
ہماری ستر سالہ سفارتی ناکامیوں اور کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ۵ اگست ۲۰۱۹ کو بھارت نے اپنے قانون میں ایک ترمیم کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت کا ہی خاتمہ کر دیا۔کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا آغاز ایک انسانیت سوز کرفیو سے کیا گیا۔ سات لاکھ سے زائد فوج نے نہتے لوگوں کا نظامِ زندگی مفلوج کر کے رکھ دیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں ،میڈیا پرسنز نیز اُمّت اُمّت اور اسلامی ملٹری الائنس کے نعرے لگانے والوں کو سانپ سونگھ گیا۔ ایسا بدترین کرفیو اور لاک ڈاون تھا کہ موبائل نیٹ ورک ، انٹرنیٹ سروس ، غذائی اجناس اور دوائیوں کی ترسیل تک قطع کر دی گئی۔ گلیوں میں موت رقص کر رہی تھی اور ہسپتال فوجی بیرکوں میں بدل گئے تھے۔کشمیری قیادت نظربند اور گرفتار جبکہ عوام گھروں میں محصور رہے۔ اس عرصے میں سخت کرفیو اور بھاری فوج کی تعیناتی سے تنگ آکر لوگ وقتاً فوقتاً احتجاج کیلئے نکلتے اور مسلسل شہید و زخمی ہوتے رہے۔
ایک قیامت تھی جو مقبوضہ وادی میں ٹوٹی ہوئی تھی اور ایک خاموشی اور بے حسی تھی جو ساری دنیا پر چھائی ہوئی تھی۔ بالاخر ۲۱ اگست ۲۰۱۹ کو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے اس سکوت کو توڑا۔ انہوں نے ایران کے صدر کے ساتھ ملاقات میں کشمیر کے مسلمانوں کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نےکہا کہ میں کشمیرکے حالات کی وجہ سے دُکھی ہوں۔ اگرچہ وزارتِ خارجہ کےدوست یہاں نہیں ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ کشمیر کے مسلمان واقعی مجبور ہیں، اُن پر حقیقی معنوں میں شدید دباؤ ہے، وہاں کے ان شریف النّفس لوگوں کے ساتھ ہندوستان کو منصفانہ طرزِ عمل اپنانا چاہیے۔ یہاں پر میں اپنے قارئین کی سہولت کیلئے ان کی گفتگو کا فارسی اقتباس بھی پیش کئے دیتا ہوں:
من از وضع کشمیر ناراحتم، حالا این دوستان وزارت خارجه اینجا حضور ندارند، واقعاً به مردم مسلمان کشمیر دارد زور گفته میشود، حقیقتاً دارد فشار وارد آورده میشود، یک سیاست منصفانهای بایستی برای این مردم نجیب که در آنجا هستند، در پیش گرفته بشود از سوی دولت هند۔
ان کی اس گفتگو سے جہاں عالمی برادری کی توجہ کشمیر کی طرف مبذول ہوئی وہیں ایران میں مقیم یونیورسٹیوں اور دینی مدارس کے طلبا نیز ایرانی میڈیا میں بھی ایک حرکت آئی۔ اگر آپ بطورِ نمونہ کچھ دیکھنا چاہیں تو اس لنک پر کلک کیجئے۔
https://farsi.khamenei.ir/video-content?id=43398
یاد رہے کہ یہ ایران کیلئے بڑا کٹھن مرحلہ تھا۔ کٹھن اس لئے کہ پہلے سے ہی ایران پر عالمی اداروں کی طرف سے اقتصادی پابندیاں ہیں۔ ان پابندیوں کے دوران تجارتی لحاظ سے ایران کیلئے بھارت بہت اہمیت رکھتا تھا ۔ تاہم ایران نے اپنے تمام تر مفادات کو پسِ پُشت ڈالتے ہوئے کشمیر کے مسئلے پر موثر آواز بلند کی ۔اس کے ساتھ ہی ایران میں مختلف اداروں کے طلبا اور عوام نے کشمیریوں کے حق میں مظاہرے بھی کئے اور تہران میں قائم ہندوستانی ایمبیسی کے سامنے بھی احتجاجی جلسے جلوس دیکھنے میں آئے۔
یہ سب بہت اچھا ہےلیکن کافی نہیں ہے۔دنیا کے سارے مسلمان ممالک خصوصا خلیجی ریاستوں میں ایسی ہی لہر اور حرکت کی ضرورت ہے۔ سعودی ملٹری الائنس اور دنیا پھر میں پھیلے ہوئے مسلمانوں اور تمام انسانیت کا احترام کرنے والے اداروں اور دانشوروں کی طرف سے کشمیریوں کو اُن کا حقِ خود ارادیت دلوانے کی خاطر بھارت پر دباو ڈالنے کی ضرورت ہے۔
عالمی برادری اور جہانِ اسلام کو خبر ہو یا نہ ہو۔ہم انہیں یہ یاد دلائے دیتے ہیں کہ پانچ جنوری کا دن بہت اہم ہے۔ اس دن اقوامِ متحدہ نےکشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کی قرارداد منظور کی تھی۔ ہم اگر کچھ اور نہیں کر سکتے تو کم از کم اُمتِ مسلمہ اور عالمی برادری کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ استصوابِ رائے تو دور کی بات ہے اب مقبوضہ کشمیر ایک انسان کُش جیل میں تبدیل ہو چکا ہے۔ایک ایسی جیل جو قبرستان بن چکی ہے ، جہاں جلاد ہی حاکم اور جلاد ہی منصف ہے۔
nazarhaffi@gmail.com