38

میر شکیل الرحمٰن کی درخواستِ ضمانت خارج

لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپ جنگ اور جیو کے ایڈیٹر اِن چیف میر شکیل الرحمٰن کی درخواستِ ضمانت خارج کر دی۔عدالتِ عالیہ نے فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد حکم جاری کیا۔لاہور ہائی کورٹ کے 2 رکنی بنچ نے میر شکیل الرحمٰن اور ان کی اہلیہ شاہینہ شکیل کی درخواستوں پر سماعت کی۔نیب کی طرف سے اسپیشل پراسیکیوٹر فیصل رضا بخاری اور عاصم ممتاز جبکہ میر شکیل الرحمٰن کی طرف سے بیرسٹر اعتزاز احسن عدالت میں پیش ہوئے۔نیب پراسیکیوٹر نے سماعت شروع ہوتے ہی عدالت کے حکم پر دلائل دینا شروع کیے۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ چیئرمین نیب کو ویڈیو لنک کے ذریعے تمام حقائق سے آگاہ کیا گیا تھا، آج کل تو سپریم کورٹ میں اور حکومتی فیصلے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کیس کی تمام کارروائی چیئرمین نیب کے علم میں ہے، ان کی ہدایات پر تحقیقات ہو رہی ہیں۔میر شکیل الرحمٰن کی درخواستِ ضمانت کے حق میں اعتزازاحسن نے دلائل دیتے ہوئے عدالتِ عالیہ سے استدعا کی کہ میر شکیل الرحمٰن عمر رسیدہ اور بیمار ہیں، انہیں ضمانت پر رہا کیا جائے۔اعتزاز احسن نے کہا کہ میرشکیل الرحمٰن کہیں بھاگنے نہیں لگے، ان سے زرِ ضمانت یا شیورٹی لے لی جائے، 2 سڑکیں پر لگا کر دبئی تو نہیں چلی جائیں گی، ایل ڈی اے بعد میں ایکوائر کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نیب کے جواب میں کسی ویڈیو لنک کا ذکر نہیں ہے، نیب تسلیم کر رہا ہے کہ ابھی انکوائری مکمل نہیں ہوئی تو پھر کیسے میر شکیل الرحمٰن کو گرفتار کیا گیا۔اعتزاز احسن نے کہا کہ نیب تسلیم کر رہا ہے کہ میر شکیل الرحمٰن پر بزنس مین پالیسی کا نفاذ ہوتا ہے، وارنٹِ گرفتاری پہلے جاری کر دیا اور انکوائری بعد میں کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ نیب نے میر شکیل الرحمٰن کی تمام کارروائی کی ویڈیو ریکارڈنگ کی، وہ منگوالی جائے، سوال نامہ لینے دینے کی بات سامنے آجائے گی۔میر شکیل الرحمٰن کے وکیل نے یہ بھی کہا کہ نیب تحقیقات جاری رکھے لیکن میر شکیل الرحمٰن کو مقدمے سے ڈسچارج کیا جانا چاہیے، میر شکیل الرحمٰن نے اضافی زمین کی رقم ایل ڈی اے کو ادا کر رکھی ہے، جب انہیں زمین الاٹ کی گئی تب وہاں کوئی سڑک نہیں تھی۔لاہور ہائی کورٹ نے فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد میر شکیل الرحمٰن کی درخواستِ ضمانت خارج کر دی۔میر شکیل الرحمٰن اور ان کی اہلیہ شاہینہ شکیل کی درخواستوں میں کہا گیا تھا کہ نیب نے اختیارات سے تجاوز کیا، 34 سال پرانے سول ٹرانزیکشن کے معاملے میں گرفتار کیا۔درخواست میں کہا گیا کہ جس معاملے میں میر شکیل الرحمٰن کو گرفتار کیا گیا وہ نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا، نیب نے اپنے ایس او پیز اور حکومت کی بزنس پالیسی کی خلاف ورزی کی ہے، نیب نے میرشکیل الرحمٰن پر جو الزامات عائد کیے ہیں وہ سراسر بے بنیاد ہیں۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ میر شکیل الرحمٰن ثبوت لے کر نیب کے دفتر گئے مگر شکایت کی تصدیق کے مرحلے پر ہی انہیں گرفتار کر لیا گیا، میر شکیل الرحمٰن کو صفائی کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔درخواست میں عدالتِ عالیہ سے استدعا کی گئی ہے کہ عدالت نیب کی کارروائی کو کالعدم اور قانون کے برعکس قرار دے، میر شکیل الرحمٰن کو فوری طور پر نیب کی غیر قانونی حراست سے آزاد کرنے کا حکم دیا جائے۔یاد رہے کہ احتساب عدالت لاہور نے 25 مارچ کو میر شکیل الرحمٰن کو 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کیا تھا۔احتساب عدالت لاہور نے میر شکیل الرحمٰن کے بڑے بھائی میر جاوید الرحمٰن کی وفات کے باعث انہیں 7 روز کے راہداری ریمانڈ پر کراچی جانے کی اجازت دی تھی تاکہ وہ اپنے بھائی کے جنازے میں شرکت کر سکیں۔نیب حکام نے میر شکیل الرحمٰن کو جوہر ٹاؤن میں ایک پرائیویٹ شخص سے 54 کینال پر مشتمل پلاٹ خریدنے کے الزام میں گرفتار کر رکھا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں