56

لالہ موسی۔نۓ پاکستان کی حکومت میں تعلیمی اداروں کی حالت زار بہتر بنانے کےلئے کوئی فنڈز نہیں رکھے گۓ

لالہ موسی۔نۓ پاکستان کی حکومت میں تعلیمی اداروں کی حالت زار بہتر بنانے کےلئے کوئ فنڈز نہیں رکھے گۓ، تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی کمی نے بچوں کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا ہے جبکہ حکومت ریشنلائزیشن کے نام پر اساتذہ کی مزید ڈاؤن سایزنگ کر رہی ہے۔جماعت اسلامی ضلع گجرات کے نائب امیر چوہدری عرفان احمد صفی نے کہا کہ گورنمنٹ جنجوعہ گرلز کالج میں سینکڑوں طالبات کو ہوم اکنامکس، فزیکل ایجوکیشن اور شماریات پڑھانے کے لیے استاد موجود نہیں ہیں جبکہ عارضی اساتذہ کی بطور سی ٹی آئ تقرری کےلئے بھی پنجاب حکومت نے ان مضامین کے لئے اساتذہ رکھنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ انہوں نےکہا کہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ کسی منصوبے کے تحت سرکاری تعلیمی اداروں میں ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں کہ جنکے نتیجہ میں والدین بچوں کو نجی اداروں میں داخل کروانے پر مجبور ہو جائیں۔ جبکہ مہنگائی اور بیروزگاری کے سبب والدین بچوں کو اعلی تعلیم دلانے کی بجاۓ انہیں گھر بٹھانے کے فیصلے کر رہے ہیں۔چوہدری عرفان احمد صفی نے کہا کہ جس قوم کی ترجیحات میں تعلیم نہ ہو وہ کبھی مسائل کے گرداب سے نہیں نکلتی،تبدیلی کی حکومت کا ہر بچے کو مفت اور اعلی تعلیم دینے کا نعرہ پورا ہوتا دور دور تک نظر نہیں آرہا،پنجاب حکومت نے نۓ مالی سال میں تعلیمی اداروں میں سہولیات کی فراہمی، عمارات کی تعمیر و مرمت اور سکولوں کی اپ گریڈیشن کےلئے کوئ رقم تاحال مختص نہیں کی ہے۔ گلیوں نالیوں کےلئے کروڑوں روپے خرچ کرنے والوں کی کسی بھی لسٹ میں کوئ تعلیمی ادارے شامل نظر نہیں آتے۔انہوں نےکہا کہ تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی کمی کو پورا کیا جاۓ تاکہ قوم کے مستقبل کے ساتھ ڈنگ ٹپاؤ پالیسی کی بجاۓ انہیں ترجیحی بنیادوں پر بہترین تعلیم فراہم کی جا سکے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں