36

LOC، بھارتی فائرنگ، 3 جوان شہید، پاک فوج کی منہ توڑ جوابی کارروائی

پاکستان اور آزاد کشمیر سمیت دنیا بھر کے کئی ممالک میں بھارت کے یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منانا بھارت کو برداشت نہ ہوسکا اور اس نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلااشتعال فائرنگ کرکے پاک فوج کے 3؍ فوجی شہید کردیئے تاہم پاک فوج نے منہ توڑ جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں 5؍ بھارتی فوجی مارے گئے اور کئی بنکر تباہ ہوگئے ، بھارتی فائرنگ سے شہید ہونےوالوں میں نائیک تنویر ، لانس نائیک تیمور اور سپاہی رمضان شامل ہیں ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر ) کا کہنا ہے کہ بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجوہ نازک صورتحال سے توجہ ہٹانے کیلئے کنٹرول لائن پر فائرنگ کا سلسلہ بڑھادیا ہے۔ پاکستان نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر گورو اہلووالیا کو دفتر خارجہ طلب کرکے ایل او سی پر بھارت کی سیز فائر کی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی اور احتجاج کیا ۔ پاکستان نے متنبہ کیا کہ سیز فائر کی خلاف ورزیوں سے علاقائی استحکام اور امن کو خطرہ ہے جس سے خطے میں اسٹرٹیجک غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہے۔دوسری جانب عالمی سطح پر بھارت کو بڑی سفارتی شکست کا سامنا کرنا پڑا اور بھرپور مخالفت کے باوجود پاکستان کی درخواست پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس آج (جمعہ کو) طلب کرلیا گیا ہے جس میں کشمیر میں بھارت کے غیر آئینی اقدام کے بعد کی صورتحال پر غور کیا جائے گا۔ روس نے بھی بھارتی امیدوں پر پانی پھیر دیا اور اجلاس بلانے کی مخالفت نہیں کی ۔ سلامتی کونسل کے صدر نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ کشمیر کے بارے میں بند کمرے میں مشاورت آج (جمعہ ، 16 اگست) کو صبح 10 بجے (پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجے ) طے کی گئی ہے، اجلاس چین کی درخواست پر بلایا گیا ہے۔ ادھر پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ بھارت شدید اضطراب میں ہے، مودی خطے کیلئے خطرہ بنتا جا رہا ،کروڑوں مسلمان او آئی سی کی طرف دیکھ رہے ہیں ، 5؍ دہائیوں بعد سلامتی کونسل کا کشمیر پر اجلاس بلانا پاکستان کی سفارتی فتح ہے۔ تفصیلات کے مطابق جمعرات کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجوہ نازک صورتحال سے توجہ ہٹانے کیلئے بھارتی فوج نے ایل او سی پر فائرنگ کا سلسلہ بڑھادیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں پاک فوج کے 3 ؍ جوان شہید ہوئے۔ شہید ہونے والوں میں نائیک تنویر، لانس نائیک تیمور اور سپاہی رمضان شامل ہیں۔ ترجمان پاک فوج کے مطابق پاک آرمی نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جس کے نتیجے میں 5 بھارتی فوجی مارے گئے جبکہ کئی زخمی ہوئے اور بنکرز کو نقصان پہنچا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ایل او سی پر وقفے وقفے سے فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔ ادھر دفتر خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دفتر خارجہ کے جنوبی ایشیاءاور سارک ممالک کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد فیصل نے بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کیا اور 15 اگست (جمعرات) کو بھارتی افواج کی جانب سے ایل او سی کے لیپہ اور بٹل سیکٹرز میں بلااشتعال فائرنگ کی مذمت کی جس میں نائیک تنویر احمد، لانس نائیک تیمور اسلم اور سپاہی محمد رمضان شہید ہو گئے۔ ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر 2003ءکے جنگ بندی معاہدہ کی مسلسل سنگین خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔ بھارت کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزیوں سے علاقائی استحکام اور امن کو خطرہ ہے جس سے خطہ میں اسٹرٹیجک غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہے۔ ڈائریکٹر جنرل جنوبی ایشیاءو سارک نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی معاہدہ کا احترام کرے اور اس پر عملدرآمد کو یقینی بناتے ہوئے ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر امن و امان قائم کرے۔ انہوں نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اقوام متحدہ کے ملٹری آبزرور گروپ کو ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری کے دورہ کی اجازت دے تاکہ وہ اپنا کردار ادا کر سکیں۔وزیراعظم عمران خان ، صدر عارف علوی ، مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی قائد حزب اختلاف شہباز شریف ، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ، چیئر مین پی ایس پی مصطفی کمال بھارت کی جانب سے جاری بلا اشتعال فائرنگ کی شدید مذمت اور تین فوجی جوانوں کی شہادت پر اظہار افسوس کیا ۔ دوسری جانب عالمی سطح پر بھارت کو بڑی سفارتی کا شکست کرنا پڑا ہے جبکہ پاکستان کو سفارتی محاذ پر بڑی کامیابی ملی ہے۔ کشمیر پر بھارتی قبضے کا معاملہ 50 سال بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل تک پہنچ گیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کا مقبوضہ کشمیر میں سنگین صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے اجلاس آج (جمعہ ) کو بند کمرے میں ہوگا ۔ یہ اجلاس پاکستان کی 15 رکنی تنظیم سے کی گئی درخواست پر منعقد ہورہاہے ۔ اجلاس بھارتی مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے ہندوستان کے فیصلے سے پیدا صورتحال کے باعث ہو رہا ہے جس نے جنوبی ایشیاء کے دو ہمسایہ ممالک کے مابین کشیدگی بڑھا دی ہے۔پولینڈ ، جو اگست کے مہینے کے لئےسلامتی کونسل کا سربراہ ہے کے مشن کے ترجمان نے جمعرات کو ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ کشمیر کے بارے میں بند کمرے میں مشاورت آج (جمعہ ، 16 اگست) کو صبح 10 بجے طے کی گئی ہے۔ یہ اجلاس چین کی درخواست پر بلایا گیا ہے ،اجلاس صبح 10 بجے (شام 7 بجے پاکستان وقت کے مطابق) منعقد ہونا ہے۔ پولینڈ کے سفیر جوانا وڑنیکا ، جو 15 رکنی کونسل کے صدر ہیں ، نے صحافیوں کو بتایا کہ کونسل کے مستقل رکن چین کی درخواست پر جموں و کشمیر کی صورتحال پر مشاورت کا امکان ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ میں روسی مندوب کا میڈیا سے بات چیت میں کہنا تھا کہ ہمارا ملک کشمیر سے متعلق سلامتی کونسل کا اجلاس بلائے جانے کی مخالفت نہیں کرے گا۔دریں اثنا میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمیں سفارتی میدان میں بہت بڑی کامیابی ملی ہے ،سیکورٹی کونسل کے اجلاس بلانے کی خبر کے بعد بھارت شدید اضطراب میں ہے،بھارت سیکورٹی کونسل اجلاس کی مخالفت کر رہا ہے ،ہمیں نیک نیتی سے اپنا مقدمہ سیکورٹی کونسل میں پیش کرنا اور لڑنا ہے،ہمارا راستہ امن کا راستہ ہے۔انہوں نے کہا کہ نریندر مودی خطے کیلئے خطرہ بنتا جا رہا ہے ،بھارت اس وقت بے چینی اور اضطراب کی کیفیت میں مبتلا ہے،بھارت میں بہت بڑا طبقہ مودی کی سوچ سے متنفر دکھائی دے رہا ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ پانچ دہائیوں بعد سلامتی کونسل کا تنازع کشمیر پر اجلاس بلانا ہماری سفارتی فتح ہے، روس نے بھی پاکستان کے مطالبے کی تائید کی ہے، مہذب دنیا مودی کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدام کانوٹس لے رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں