42

IMFکے پاس خوشی سے کوئی نہیں جاتا، حفیظ شیخ

مشیرخزانہ واقتصادی امورڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس خوشی سے کوئی نہیں جاتا بلکہ حالات جانے کے لیے مجبور کرتے ہیں، 2008 اور 2013 میں بھی حکومت آئی اور ایم ایف کے پاس گئی،یہ زیب نہیں دیتا کہ جو خود گئے وہ اب تنقید کریں۔مشیرخزانہ واقتصادی امورڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے قومی اسمبلی میں مہنگائی اوراقتصادی حالات کے بارے میں پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ اس ملک کا بڑا المیہ ہے کہ کوئی وزیراعظم اپنی مدت مکمل نہیں کرسکا، ملکی معیشت کے استحکام کے لیے داخلی سلامتی ضروری ہے ، حکومت ملی تو پاکستان پر 30ہزار ارب کا قرض تھا۔قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ ترقی یافتہ ملکوں کی صفوں میں شامل ہونے کے لیے لوگوں پر توجہ دینا ہوگی، برسوں میں ہم دوسرے ملکوں کو اپنے ہاں سرمایہ کاری کے لیے مطمئن نہیں کرسکے۔مشیر خزانہ نے کہا کہ 72 سال میں پاکستان کی کوئی حکومت ٹیکس محصولات میں کامیاب نہیں ہوسکی،اس ملک میں ایسے دور آئے جب ترقی کی رفتار میں تیزی آئی، لیکن ترقی کی یہ شرح تین چار سال سے زیادہ نہیں چل سکی۔حفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ بردباری اور سنجیدگی سے ان معاملات پر توجہ دینا ہوگی کیونکہ ماضی کے اثرات حال میں اور آج کے اثرات مستقبل میں ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اس پر غور کرنا ہوگا کہ ملکی معیشت بڑھنے کی رفتار میں تسلسل ہو۔مشیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت ملی تو پاکستان پر 30ہزار ارب کا قرض تھا، ہماری حکومت پر تنقید کی جاتی ہے کہ قرض میں اضافہ کیا، یہاں کسی نے کہا کرنٹ اکاونٹ خسارے کا ذکر کیوں اتنا کیا جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کرنٹ اکاونٹ خسارہ بتاتا ہے کہ درآمدات اور برآمدات میں کتنا فرق ہے، یہ جامع انداز میں بتا دیتا ہے کہ ملکی معیشت کو کس قدر خطرہ ہے، روپے چھاپے جاسکتے ہیں، ڈالر نہیں چھاپے جاسکتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں