148

بے ہنر ڈگریاں تحریر: ممتازملک.پیرس

ہمارے ہاں تعلیمی نتائج میں آجکل گیارہ سو میں سے گیارہ سو نمبر ہی حاصل کرنے کا فیشن چل رہا یے ۔ اس کے باوجود ہمارا طالبعلم بیس تیس سال پرانے ساڑھے آٹھ سو میں سے ، پانچ سو اور ساڑھے پانچ سو نمبر لیکر پاس ہونیوالے کا ذہانت میں مقابلہ نہیں کر سکتے۔ اس کی وجہ ہمارا تعلیمی معیار ہے جو اس حد تک گر چکا ہے جو شاید باقاعدہ سکول کالج سے وابستہ طالبعلم( ریگولر سٹوڈنٹ) کو محض اس وابستگی کی وجہ سے ڈھیروں ڈھیر نمبر ٹھیکے پر دے رہا ہے کیوں کہ اس سکول کالج سے پرچوں کی جانچ کے دوران انہیں شاید کچھ لفافے اور فوائد کا ایک پیکج بھی مل جاتا ہے کہ ہمارے سو میں سے دو چار بچے فیل کر دیجیئے گا باقی سب کو بہترین نمبروں سے پاس کر دیا جائے۔ یوں جسے دیکھو نمبروں کی لوٹ سیل سے مستفید ہو رہا ہے ۔ جبکہ علمی لحاظ سے نہ بچوں کو ڈھنگ کی اردو لکھنی پڑھنی آتی ہے نہ ہی بولنی۔ نہ انہیں انگریزی پر عبور حاصل ہے اور نہ ہی حساب میں انہیں مہارت ہے ۔ سوچنے کی بات ہے کہ یہ پرچے کون چیک کر رہا ہے ؟ اس استاد کی اپنی تعلیمی قابلیت ، اپنے مضمون پر دسترس کتنی ہے؟ اس کا بولنے کا لب و لہجہ اس قابل ہے کہ اس کا شاگرد اس کے نقش قدم پر چل سکے ۔ اکثر سکولوں میں پرائیوٹ کہہ کر ہزاروں روپے کی فیس اکٹھی کرنے کے باوجود صرف اور صرف رٹے باز طوطے پیدا کیئے جا رہے ہیں ۔ ڈگریوں کے حصول کے لیئے امتحانات کے دوران والدین کی ایڑی چوٹی کا زور اس بات پر صرف ہوتا ہے کہ ان کا بچہ فیل نہیں ہونا چاہیئے اور اس کے نمبر 90 فیصد سے کسی طور کم نہیں ہونے چاہیئیں ۔ آتا جاتا چاہے اسے ککھ نہ ہو ۔ بس ڈگری ہونی چاہیئے ۔ بالکل ہمارے ایک سیاہ ست دان کے بقول ڈگری اصلی ہو یا نقلی ڈگری ڈگری ہوتی ہے ۔ اور اسکے بعد شروع ہوتا ہے یا تو بیروزگاری کا سفر یا پھر کوئی نوکری خریدنے کی دوڑ دھوپ۔ کیونکہ ہمارے ہاں لوگوں کو اتنی سمجھ نہیں ہے کہ ہر سوکھی ڈگری والا کسی کرسی پر نہ تو افسر بن سکتا ہے اور نہ ہی ہر ایک کو وائٹ کالر جاب مل سکتی ہے ۔ جبکہ دنیا پروفیشنل تعلیم میں نام بنا رہی ہے ۔ وہاں ہمارے لوگ ساری عمر کی جمع پونجی سے بچوں کے لیئے بے ہنر اور بیروزگاری کی ضمانت والی ڈگریاں خرید رہے ہیں ۔ جبکہ ماسٹرز کرنے کے بعد بھی وہ نوجوان اپنے لیئے دو وقت کی روٹی کمانے کے لائق نہیں ہو سکتا ۔ کیونکہ اس کے ہاتھ میں کوئی پیشہ ورانہ ڈپلومہ نہیں ہے ۔ ہنر نہیں ہے ۔ اس نے تو اب تک صرف اور صرف کتابوں کے رٹے لگائے ہیں ۔ اسے کام سیکھنے کا کہو تو اب اس کی شان کے خلاف ہے ۔ اپنے باپ دادا کے کاروبار میں ہاتھ بٹانے کا کہو، ان کی کوئی دکان سنبھالنے کا کہو تو برخوددار کی ناک کے نیچے یہ سب جمتا نہیں ہے ۔ ان پڑھے لکھوں کی کھیپ میں سے ایک بھی اپنے باپ کے کاروبار یا پیشے کی عزت نہیں کرتا لیکن اسی پیشے کہ کمائی سے اس باپ کا خون چوستا رہتا ہے ۔اگر بیٹا یا بیٹی ان پڑھ ہے تو اسے ہنر سکھا کر ماہر تو بنا دیا جاتا ہے ۔ لیکن جب وہ اپنی زندگی کے سولہ سال بنا کسی ہنر یا پیشہ ورانہ تعلیم کے عملی زندگی میں قدم رکھتا ہے تو وہاں صرف مایوسیاں اس کی منتظر ہوتی ہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بچے کو مڈل کلاس کے بعد ہی پروفیشنل تعلیمی سسٹم میں داخل کیا جائے ۔ جہاں وہ جس بھی کام میں دلچسپی رکھتا ہے اسے اسی کام میں سپیشلائز کروایا جائے۔ تاکہ اگلے آٹھ سال میں وہ تھیوری اور پریکٹیکل کے ساتھ اپنے ڈگری اور ڈپلومے مکمل کرے اور معاشرے میں ایک قابل فخر ، باروزگار ، مفید اور بااعتماد نوجوان بن کر نکل سکے ۔ وہ اپنے گھر والوں کا مددگار بن سکے نہ کہ مایوسی نشے اور بری صحبت کا شکار ہو کر معاشرے کے لیئے عذاب بن جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں