98

مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ بھارت کا داخلی مسئلہ نہیں، یہ انسانی آزادی اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کا مسئلہ ہے.صدائے کشمیر فورم

مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ بھارت کا داخلی مسئلہ نہیں، یہ انسانی آزادی اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کا مسئلہ ہے، کشمیریوں کو زبردستی غلام بنانا کسی طور بھی جائز نہیں، کشمیر کی آزادی کیلئے ہمیں داخلی اختلافات کو بھلا دینا چاہیے،آج کشمیر میں زبردستی آبادی کا تناسب تبدیل کیا جا رہا ہے۔ مختلف بہانوں کے ساتھ غیر ریاستی افراد کو مقبوضہ کشمیر میں بسایا جا رہا ہے۔ ایک سال سے ریاستی باشندے بدترین کرفیو کے شکار ہیں، عالمی برادری خاموش ہے۔ کشمیریوں کی آواز کو دبا دیا گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار ایران کے شہر قم میں صدائے کشمیر فورم کے زیراہتمام ایک اجلاس میں کیا گیا۔اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے اراکین اجلاس نے بین الاقوامی برادری کی بے حسی پر افسوس کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ عالمی اسلامی برادری بھی اس وقت مقبوضہ کشمیر کے نامساعد حالات اور طولانی ترین کرفیو پر خاموش ہے۔ اس موقع پر فورم کےسیکرٹری جنرل نذر حافی نے کہا کہ میڈیا پر پابندیوں کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر کی آواز دب گئی ہے۔ کشمیریوں کو اُن کے اپنے ہی دیس میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔سنگین کرفیو میں غذا اور دواوں کی قلت کی وجہ سے اموات ایک طرف اور عوام کو اغوا کر کے جعلی پولیس مقابلوں میں مارنے کا سلسلہ دوسری طرف جاری ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری تک کشمیریوں کی آواز پہنچنی چاہیے اور عالمی اداروں کو خبر ہونی چاہیے کہ اس وقت مقبوضہ وادی میں نام نہاد سرچ آپریشنز کے دوران بے گناہ لوگوں کو مارنے، املاک کو تباہ کرنے، مکانوں کو گرانے ،باغات کو نقصان پہنچانے، خواتین کی عصمت دری اور بچوں پر تشدد کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔اس موقع پر فورم کے ڈپٹی سیکرٹری مختار میرجت نے کہا کہ کشمیر کازپرہر ملک میں اور ہر سطح پر بات ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کشمیر یوں کی آواز بننے کیلئے ہر طرح کے تعصبات اور پارٹیوں سے بالاتر ہونے کی ضرورت ہے۔

کشمیر کا مستقبل اور آزاد کشمیر تحریر:نذر حافی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں