52

سری لنکن کا قتل۔۔۔ہماری مذمّت سے کیا فرق پڑتا ہے!؟

نذر حافی
nazarhaffi@gmail.com
اسلام سے پہلے سراسر جہالت تھی۔ وہ جہالت کیا تھی!؟اس سوال کا جواب یہی کچھ ہے کہ جھوٹ تھا، فراڈ تھا، ملاوٹ تھی، عورت کا حترام نہ تھا، لاشوں کا مُسلہ کرنے، اجنبیوں کو مارنے، مسافروں کو لوٹنے، پردیسیوں کو تہہ تیغ کرنے اورمعمولی جھگڑوں کو طول دینے کا رواج تھا۔اگر یہی کچھ تھا تو یہ سب آج بھی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جو دین یہ سب برائیاں مٹانے کیلئے آیا تھا اُسی کا نام لینے والوں میں یہ ساری برائیاں آج بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں۔ دین کی بات ہوئی ہے تو مولانا مودودیؒ کی بات کیسے نہ ہو۔ مولانا نے ایک مثال کسی کتابچے میں لکھی تھی۔ وہ ہمیشہ میرے ذہن میں رہتی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ لوگوں کو مردار یا خنزیر کھلانا بُری بات ہے۔ اس سے تو کسی کو انکار نہیں۔ لیکن اگر دیگ میں مُردار یا خنزیر پکانے والا باوضو ہو کر اونچی آواز میں اللہ اکبر، اللہ اکبر اور سبحان اللہ ، سبحان اللہ کہہ کر چمچہ ہلا رہا ہو اور لوگوں کی پلیٹوں میں وہ مردار ڈال رہا ہو تو اس اللہ اکبر ، اللہ اکبر اور سبحان اللہ ، سبحان اللہ کہنے سے وہ مردارحلال نہیں ہوجائے گا بلکہ اس کی برائی اور قباحت اور زیادہ بڑھ جائے گی چونکہ مردار پکانے اور کھلانے والے کی زبان پر اللہ کا نام ہے۔یہ اللہ کا نام لے کر فعلِ حرام کا ارتکاب کر رہا ہے۔ لہذا اس کی برائی، قباحت، کراہت، فساد اور شر دیگر مُردار فروشوں سے زیادہ ہے۔
پریا نتھا کمارا کا قتل تاریخ کا کوئی پہلا قتل نہیں ہے۔ اس کی لاش کو گھسیٹا اور جلایا جانا بھی تاریخ بشریت میں پہلی مرتبہ نہیں ہُوا۔ البتہ تاریخ پاکستان میں یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ساری ملت پاکستان نے بیک زبان ہوکر قاتلوں کی مذمّت کی ہے۔ مذمّت کا یہ ریلا اتنا شدید ہے کہ قاتلوں کی تربیت کرنے والے اور اندر سے قاتلوں کے اس فعل پر جو راضی اور خوش ہیں وہ بھی منہ چھپاتے پھر رہے ہیں۔ عوامی اور انسانی ردّعمل کو دیکھتے ہوئے اب وہ قاتلوں کو تمغہ شجاعت اور شاباش تو نہیں دے سکتے لیکن مذمّت رکوانے کیلئے یہ پروپیگنڈہ ضرور کر رہے ہیں کہ نعوذباللہ یہ اسلام کی مذمّت ہو رہی ہے۔ حالانکہ سب مسلمان متحد ہو کر قاتل کی مذمّت کر رہے ہیں، درندگی کی مذمّت کر رہے ہیں اور وحشت و بربریت کی مذمّت کر رہے ہیں۔
پریا نتھا کمارا کا قتل قرآن و سنّت کی تعلیمات کے عین خلاف ہے، دنیا کی واحد اور پہلی اسلامی نظریاتی ریاست کے سینے پر ایک مہمان، مسافر، پردیسی ، دیانتدار اور محنتی غیرمسلم کو تڑپا تڑپا کر قتل کردینا یہ پاکستان اور اور اسلام دونوں کی توہین ہے۔ یہ مصوّرِ پاکستان اور بانی پاکستان دونوں کی اہانت ہے۔ اس بے گناہ پردیسی انسان کے قاتل پاکستان اور اسلام کی توہین کے مرتکب ہوئے ہیں لہذا ان قاتلوں کی مذمّت سے پاکستان اور اسلام کی عزّت اور سربلندی میں اضافہ ہوتا ہے۔ جب ہم ان کی مسلسل ، کھل کر اور شدید مذمّت کرتے ہیں تو دنیا کو پتہ چلتا ہے کہ جی ہاں !پاکستانی ایک منصف مزاج قوم ہیں اور اسلام ایک انسان دوست دین ہے۔ جب ہم ان قاتلوں ، ان کے سرپرستوں اور ان کی تربیت کرنے والوں کے خلاف صدائےاحتجاج بلند کرتے ہیں تو اُس وقت اقوامِ عالم کو یہ بات سمجھ آتی ہے کہ پاکستان میں بسنے والی مسلمان قوم ایک باشعور اور انسانیت کی ہمدرد قوم ہے۔ خبردا!ر اس سازش کو سمجھئے اور یہ جان لیجئے کہ قاتلوں کی مذمّت کرنے سے اسلام اور پاکستان کی توہین نہیں ہوتی بلکہ ان کی مذمّت نہ کرنے سے پاکستان اور اسلام پر حرف آتا ہے۔
یہ جو کہتے ہیں کہ مغرب میں اتنا ظلم ہو رہا ہے، ہندوستان میں ظلم ہو رہا ہے، کشمیر ۔۔۔ جی ہاں ہم اُس ظلم کے بھی خلاف ہیں لیکن یہ ظلم اس لئے زیادہ بدترین ہے کہ یہاں قاتلوں کی زبان پر اللہ اور اس کے رسولﷺ کا نام ہے۔ یہاں دین کے لبادے میں دین فروشی کی گئی ہے۔ یہاں وحشی درندوں نے نبی رحمتﷺ کا نام لے کر ، لبّیک یا رسول اللہ ،لبّیک یا رسول اللہ کے نعرے لگا کر درندگی کا ارتکاب کیا ہے۔ ۔ ۔ان دین فروش سفّاک قاتلوں کی مسلسل مذمّت اسلئے ضروری ہے چونکہ اگر دیگ میں مُردار یا خنزیر پکانے والا باوضو ہو کر اونچی آواز میں اللہ اکبر، اللہ اکبر اور سبحان اللہ ، سبحان اللہ کہہ کر چمچہ ہلا رہا ہو تو اس کی برائی، قباحت، کراہت، فساد اور شر دیگر مُردار فروشوں سے زیادہ ہے۔
آئیے !قاتلوں کی مذمّت کر کے مصوّرِ پاکستان ؒ کی روح کو تسکین دیجئے اور اقبالؒ کا یہ پیغام دنیا تک پہنچائیے کہ مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں