66

تحفظ اسلام ایکٹ فرقہ وارانہ تشدد روکنے کا ذریعہ ہے۔ علماء اور دیگر قائدین کا مشترکہ اعلامیہ

جہلم(محمد زاہد خورشید) پنچاب اسمبلی تحفظ بنیاد اسلام ایکٹ منظور ہونے پر وزیر اعلیٰ پنچاب اور اسپیکر پنچاب اسمبلی سمیت ہم تمام ممبران اسمبلی کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور متفقہ طور پر اعلان کرتے ہیں کہ تحفظ بنیاد اسلام ایکٹ بنیادی اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہے اور فرقہ وارانہ تشدد اور باہمی منافرت کو روکنے کا ذریعہ بنے گا۔ ان خیالات کا اظہار جامعہ علوم اثریہ میں رئیس الجامعہ حافظ عبدالحمید عامر کی میزبانی میں منعقدہ اجلاس میں ہوا، جس میں جہلم کی مختلف مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے قائدین، تاجر تنظیموں کے رہنماؤں، وکلاء اور ڈاکٹرز اور دیگر سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ جن میں قاری محمد ابوبکر صدیق مہتمم جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام، مولانا صوفی محمد اسلم نقشبندی سرپرست سنی علماء کونسل، حافظ اظہر اقبال مہتمم جامعہ عائشہ صدیقہ للبنات، مولانا ظفر اقبال شیخ الحدیث جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام، قاری محمد ظفر نقشبندی خطیب جامع مسجد رحمانیہ پیرا غائب، حافظ احمد حقیق مدیر جامعہ اثریہ للبنات،سیاسی قائدین میں مسلم لیگ ن کے رہنما چوہدری لال حسین سابقہ ایم پی اے،تاجر رہنماؤں میں صدر مرکزی انجمن تاجران ملک محمد اقبال، جنرل سیکرٹری عبدالرشید بٹ، چیئرمین میجر چوہدری محمد آصف، سرپرست شیخ محمد جاوید، سٹی صدر شیخ ندیم اصغر، جہلم بار ایسوسی ایشن کے صدر رانا اورنگزیب ایڈووکیٹ کے نمائندہ حامد مصطفی کیانی ایڈووکیٹ، صحافی برادری کے نمائندہ ڈاکٹر سہیل امتیاز ودیگر شامل تھے۔
حافظ عبدالحمید عامر،قاری محمد ابوبکر صدیق، صوفی محمد اسلم نقشبندی،چوہدری لال حسین سابقہ ایم پی اے اور دیگر رہنماؤں اور قائدین نے کہا کہ ایک عرصہ سے ملک میں مقدس ہستیوں کی توہین کا سلسلہ جاری ہے اور آج کل سوشل میڈیا اس غلاظت کی آماجگاہ بن چکا ہے جس کے باعث مختلف طبقات میں نفرت کی چنگاریاں بھڑک رہی ہیں، کسی شخصیت یا نظریے سے اختلاف اپنی جگہ، لیکن گالیاں اور توہین فساد کو جنم دیتی ہیں۔وطن عزیز کے معروضی حالات ایسی کسی بھی شرانگیزی کے متحمل نہیں ہیں، قرآنی تعلیمات میں تو کافروں کے جھوٹے خداؤں کو بھی گالی دینے سے منع کیا گیا ہے، چہ جائیکہ مقدس ہستیوں کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جائے۔ جبکہ بعض عناصر کی طرف سے بل کی مخالفت افسوس ناک ہے اور ان کے لب و لہجے سے کسی طور پر بھی یہ محسوس نہیں ہوتا کہ وہ قرآن و سنت کی تعلیمات سے روشناس ہیں۔اس مشترکہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ 31جولائی کا خطبہ جمعہ یوم تحفظ بنیاد اسلام ایکٹ کے طور پر منایا جائے اور تمام مساجد کے خطباء اس بل کی اہمیت و افادیت اور ضرورت کو عوام الناس پر واضح کریں کہ تحفظ بنیاد اسلام بل ملک و ملت میں باہمی یگانگت اوراخوت و بھائی چارہ میں اضافہ کا سبب بنے گا۔
ہم حکومت سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ معاشرے میں فتنہ و فساد کا سبب بننے والی اس سرگرمی کو سختی سے روکا جائے اور ملک میں امن و امان کا قیام یقینی بنایا جائے اور اس مقصد کے لیے علمائے کرام نے ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا ہے اور آئندہ بھی ان شا ء اللہ کرتے رہیں گے۔

تحفظ بنیاد اسلام ایکٹ کا ہر پلیٹ فارم پر دفاع کریں گے۔ حافظ عبدالحمید عامر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں