59

استاذ کی حیثیت کسی پیشہ ور ملازم سے ذیادہ نہیں رہ گئی ہے تحریر:عابد عمر جنرل نالج بلوچستان

فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہ عَلیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم ہے : اِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّماً یعنی مجھے مُعلّم بناکر بھیجا گیا۔۔!! ایک استاذ کیلئے یہ بہت شرف کی بات ہے کہ خاتم النبیؐن نے خود کو بحیثیت معلم متعارف کروایا
قوموں کی ترقی میں ایک استاذ کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے ایک معلم ہی وہ ہستی ہے جو صرف ایک بچےکو ہی تعلیم و تربیت نہیں دیتا بلکہ اس سے منسلک ایک آنیوالی نسل کی پرورش کا بھی ذمہ دار ہوتا ہے۔
ایک اچھا استاذ اپنے طلباء کیلیے ایک قیمتی اثاثے کیطرح ہے کیونکہ کوئی بھی شعبہ ہو اس میں ترقی حاصل کرنے یا کوئی بھی خواب ہو اسے پایہ تکمیل تک پہچانے کیلیے ایک معلم کی ہی ضرورت پڑتی ہے۔
ایک استاذ وہ ہستی ہے جو ناصرف دنیا میں انسان کی بھلائی کیلئے موجود ہے بلکہ آخرت کی کامیابی حاصل کرنے میں بھی ایک کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

یقیناً استاذ بادشاہ نہیں ہوتا مگر بادشاہ بنا دیتا ہے کامیابی یا ترقی کی منزلیں طے کرنیکے لیے یا کوئی عہدہ حاصل کرنے کیلیے استاذ کا مقام یاد رکھنا ضروری ہے کیونکہ یہی تعلیم یافتہ ہونیکی ضمانت ہے ۔
مگر موجودہ دور میں استاذ کی حیثیت کسی پیشہ ور ملازم سے زیادہ نہیں رہ گئی ہے ہم اتنی ترقی کر چکے کہ ماضی میں ایک معلم کا یہ مقام تھا کہ جب تک استاذ بیٹھ نہیں جاتے تھے تو شاگرد کھڑے رہتے تھے، حتٰی کہ وہ شاگرد بھی جو کہ اپنی پریکٹیکل لائف میں قدم رکھ چکے ہوتے تھے اپنے اساتذہ کو دیکھ کر عقیدت کا اظہار کرتے تھے، استاذ کے برابر بیٹھتے ہوئے عقیدت سے کندھے جھک جاتے تھے۔۔ یہ ذمہ داری محض طلباء کی ہی نہیں ہوتی تھی بلکہ والدین کیطرف سے بھی یہ تربیت دی جاتی تھی کہ استاذ کی عزت لازم و ملزوم ہے والدین بھی ایک اہم کردار ادا کرتے تھے استاذ کا مقام بتانے اور سمجھانے میں۔
ہم ترقی کی منزلیں طے کرتے اتنے آگے نکل چکے کہ اب استاذ کا مقام جہاں ایک ملازم جیسا رہ گیا ہے وہاں اگلی باری حقیقی رشتوں کی ہی ہوتی ہے پھر چاہے والدین ہوں یا باقی معاشرتی تعلقات۔۔!!

نئی نسل کو روک ٹوک نا کرنے کے نام پر جس طرح مجبور کرکے ایک معلم کا کردار دکھایا جا رہا ہے وہ ہمارے لیے لمحہ فکر ہے۔

گھر کے سربراہ کے فیصلوں کی اہمیت اسلیے ہوتی ہے کہ وہ آزاد ہوتے ہیں صحیح اور غلط کے درمیان سمجھانے اور فرق بتانے میں تو انکے لیے دل میں ایک ڈر رہتا ہے کہ سزا بھی مل سکتی ہے کیا آج کے استاذ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے طلباء کی اصلاح کرنیکی جرات کر سکے؟
کیا استاذ اپنی کلاس کیلئے سربراہ کی حیثیت نہیں رکھتا؟
ہمیں معمارِ قوم کی اہمیت اور اسکا درجہ جاننے کی ضرورت ہے یہ نا ہو کہ مغربی تہزیب کی غلامی ہمیں حقیقتًا ایک غلام قوم ہی بنا دے۔۔!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں