259

دو طبقاتی نظام تعلیم تحریر:مسزنائلہ مشتاق احمد دھون ایڈووکیٹ لاہورہائیکورٹ

ہمارا ملک پاکستان اسلام کے نام پر دنیا کے نقشے پر ابھرا اور قومی زبان اردو قرار دی گئی، نظام تعلیم قرآن و سنت کے مطابق ہونا ہی ہمارے ملک کی عین ضرورت ہے۔ افسوس کہ ہمارے ملک میں دو طبقاتی تعلیمی نظام رائج ہے ایک سرکاری اور ایک نجی۔ نجی اسکولوں کی بھرمار نے لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے اور نجی سکول مافیا نے بھاری بھرکم فیسوں کے ذریعے اچھی تعلیم کا راگ الاپتے ہوئے والدین اور بچوں کو یرغمال بنا رکھا ہے اور والدین اپنے بچوں کے اچھے مستقبل کے لیے نجی سکولوں کے تابع ہو چکے ہیں ہر حکومت یکساں تعلیمی نظام کا راگ الاپتی ہے مگر آج تک کوئی خاطر خواہ نتیجہ سامنے نہ آ سکا ہے اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کے گورنمنٹ سکولوں میں کوالیفائیڈ ٹیچرز تعلیم کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں جو محنت اور لگن سے پڑھاتے ہیں اسکے برعکس نجی سکولوں میں ان کوالیفائیڈ ٹیچرز بچوں کو پڑھاتے ہیں، بہت کم نجی سکول ایسے ہیں جن میں اعلی تعلیم یافتہ اساتذہ کرام تعلیم کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ والدین کا نجی سکول/انگریزی تعلیم کی طرف بڑھتا ہوا رجحان ہمارے ملک کے طالب علموں کو ذہنی مریض بنا رہا ہے ابتدائی تعلیم بچوں کی مادری زبان میں ہونی چاہیے جو کہ 5 سال کی عمر میں بچہ بہت سارے الفاظ اپنی ماں اور خاندان سے سیکھ چکا ہوتا ہے جب سکول جاتا ہے تو انگریزی اور اردو کے چکر میں پڑ کر اس کی صلاحیتیں مکمل طور اجاگر نہیں ہو سکتں۔ نجی سکول کے یونیفارم، کتابیں، کاپیاں وغیرہ کسی مخصوص دکان پر موجود ہوتے ہیں اور والدین کو ہدایت کی جاتی ہے کہ بچوں کی تمام چیزیں اس مخصوص دوکان سے خریدی جائیں ورنہ قابل قبول نہ ہوگی۔ نجی سکول بھاری بھرکم فیسیں وصول کرنے کے ساتھ ساتھ کتابوں، یونیفارم وغیرہ کا بھی کاروبار چلا رہے ہیں اب نظام تعلیم ایک کاروبار بن چکا ہے زیادہ تر نجی سکولوں میں مغربی تعلیم کو فروغ دیا جاتا ہے اور کردار سمیت اسلامی نظریات کے مطابق بچوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کی بجائے انگریزوں کا غلام بنانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ یکساں نظام تعلیم وقت کی اہم ضرورت اور معاشرے کو بگاڑ سے بچانے کا واحد ذریعہ ہے۔ بہت کم نجی تعلیمی ادارے ہیں جو اسلامی نظریات کے مطابق تعلیم دلوا رہے ہیں مگر یہ آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ نجی تعلیمی سسٹم کے نصاب میں اپنے ملکی ہیروز کو بڑھانے کی بجائے انگریزی ہیروز کو خوبصورتی سے بیان کیا جاتا ہے انگریزی تعلیم دلوانے کے چکر میں والدین نے اپنے بچوں کو ذہنی مریض بنا کر رکھ دیا ہے۔ بچوں کی مادری زبان کوئی اور، قومی زبان اردو نظام تعلیم انگریزی زبان میں ہونے کی وجہ سے بچے آدھے تیتر آدھے بٹیر بن گئے ہیں۔ کسی بھی قوم نے آج تک ترقی نہیں کی جس نے اپنی قومی زبان میں اپنے نظام تعلیم کورائیج نہیں کیا۔ چائینہ ہم سے کئی سال بعد آزاد ہوا مگر ان کی ترقی کا راز صرف اور صرف ان کی اپنی زبان میں تعلیمی نظام کا نفاذ ہے۔ہمارا سرکاری نظام تعلیم اتنا مربوط اور جامع ہے کہ ہر ہر گاؤں اور چھوٹے سے چھوٹے قصبے دور دراز علاقوں میں اسکول قائم ہیں کمی ہے تو صرف اور صرف ایڈمنسٹریشن کی جب تک ہم خود اس دو طبقاتی نظام کو چھوڑ کر سرکاری سرپرستی میں یک نظام تعلیم کو نہیں اپناتے ہم کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتے۔ بڑے بڑے عہدوں پر بیٹھے ہوئے افراد اکثر ٹاٹ سکولوں اور اردو میڈیم سے پڑھ کر ہی پہنچے ہیں ہم نے کئی برس پہلے انگریزوں کی غلامی سے نجات حاصل کر لی مگر ذہنی طور پر آج بھی انگریز اور انگریزی تعلیم کے غلام ہیں اور والدین اپنے بچوں کو انگریزی تعلیم میں پڑھتا دیکھ کر فخر محسوس کرتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں اپنی مادری زبان بولنے والے کو پینڈو کہا جاتا ہے یہ ہمارا بحثیت قوم ایک ذہنی مسئلہ ہے کہ ہم نے انگریزی کو کامیابی اور فخر کا آلہ بنا رکھا ہے، 72 سالہ تاریخ میں ہم اپنی اردو زبان کو اپنی قومی زبان نہ بنا سکےاور نہ رائج کر سکے۔ انگریزی زبان ضرور سیکھائیں اور پڑھائیں مگر تعلیمی نظام اور تعلیم و تربیت ناپنے کا آلہ نہ بنائیں۔ والدین سے بھی گزارش ہے کہ خدارا اپنے بچوں کو تعلیم اپنی اسلامی اقدار اور روایات کے مطابق دلوائیں تاکہ ان کو آدھا تیتر آدھا بٹیر بننے سے بجائے ایک مسلمان اور پاکستانی ہونے پر شرمندگی کی بجائے فخر محسوس کر سکیں اور اپنے آپ کو منوا سکے اور ملک و قوم کا دنیا میں نام روشن کر سکیں۔ آمین۔
مسز نائلہ مشتاق احمد دھون ایڈووکیٹ لاہورہائیکورٹ لاہور.
سابقہ فنانس سیکرٹری پپلاں بار میانوالی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں